کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 524
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کو زہد و ورع میں شہرت حاصل ہے۔ حتیٰ کہ بعض گورنروں کی بیویاں اپنے شوہروں کی بیزاری اور زہد میں مشغولیت کی شکایت لے کر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آتی تھیں، مثلاً معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی بیوی ان کی شکایت لے کر آپ کے پاس آئی۔ واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ زکوٰۃ میں جو کچھ بھی وصول کیا وہیں کے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا، اپنے پاس کچھ بھی نہ چھوڑا، اپنے کندھے پر بیٹھنے کے لیے جو بوریا لے کر گئے تھے، وہی لے کر واپس آئے، تو ان کی بیوی نے کہا: عمال ومحصلین اپنی بیویوں کے لیے سفر سے واپسی پر کچھ لاتے ہیں، تم جو لائے ہو وہ کہاں ہے؟ آپ نے جواب دیا: میرے اوپر ایک نگران تھا۔ بیوی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نزدیک تم امانتدار شمار ہوتے تھے، کیا عمر رضی اللہ عنہ نے تمہارے ساتھ نگران بھیجا تھا؟ چنانچہ وہ اپنی سہیلیوں میں یہ بات پھیلانے لگی اور عمر رضی اللہ عنہ کی شکایت کرنے لگی، جب عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر ملی تو آپ نے معاذ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے پوچھا: کیا تم پر کوئی نگران مقرر کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: اس کے علاوہ اس (بیوی) سے معذرت کے لیے میرے پاس کوئی بہانہ نہیں تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ ہنسنے لگے اور معاذ رضی اللہ عنہ کو کچھ سامان دے کر کہا: اسے لے جاؤ اسے دے کر خوش کر دو۔ ۲: تواضع: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے دور کے والیان ریاست تواضع میں بہت مشہور ہیں، یہاں تک کہ جب وہ اپنے شہروں میں جاتے تو ان میں اور عوام میں فرق نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وہ اپنے لباس، رہائش اور سواری وسفر وغیرہ میں عام لوگوں کی طرح رہتے تھے، کسی خاص چیز میں خود کو ممتاز نہیں رکھتے تھے۔ اس کی مثالوں میں ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا واقعہ قابل ذکر ہے۔ چنانچہ شاہ روم نے سیاسی گفت وشنید کے لیے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا ایک ایلچی بھیجا، وہ مسلمانوں کے پاس آیا اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ تک پہنچ گیا، لیکن ان میں اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ میں وہ تمیز نہ کر سکا اور نہیں جان سکا کہ اس میں ابوعبید رضی اللہ عنہ بھی ہیں یا نہیں اور اسی لیے دربار امارت کا خوف بھی محسوس نہ ہوا۔ بہرحال اس نے مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہا: اے عرب کے لوگو! تمہارا امیر کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ دیکھو، یہی ہیں۔ اس نے دیکھا کہ آپ کمان کے سہارے زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں تیر ہیں۔ آپ انہیں الٹ پلٹ رہے ہیں۔ ایلچی نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ ان کے امیر ہیں؟ آپ نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: پھر آپ زمین پر کیوں بیٹھے ہیں؟ اگر آپ مسند پر بیٹھیں تو کیا وہ آپ کے اللہ کے نزدیک آپ کی ذلت کا سبب ہے یا یہ چیز آپ کو احسان سے روکنے والی ہے؟ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ حق بات سے شرم نہیں کرتا، تمہاری بات کی ضرور میں تصدیق کروں گا۔ میں درہم و دینار کا مالک نہیں ہوں اور نہ گھوڑا، ہتھیار اور تلوار کے علاوہ میرے پاس اور کچھ ہے۔ آج شام کو مجھے کچھ