کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 523
لیے تجویز کردہ شخص مجلس میں موجود نہ ہوتا تو آپ اس کے نام سے عہد نامہ تیار کرتے اور اسے اس کے پاس بھیج کر حکم دیتے کہ فلاں ریاست میں چلے جاؤ وہاں تمہاری تقرری ہوگئی ہے۔ جیسا کہ بحرین کے گورنر علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو عہدنامہ ارسال کیا اور حکم دیا کہ بصرہ چلے جاؤ، اب عتبہ کے بعد تم وہاں کے گورنر بنائے جا رہے ہو۔ اسی طرح اگر آپ کسی امیر کو معزول کر کے دوسرے کو اس کی جگہ پر بھیجتے تو نیا امیر سرکاری خط کے ساتھ وہاں جاتا جس میں پہلے امیر کی معزولی اور نئے امیر کی تقرری کا حکم ہوتا، جیسے کہ آپ نے جب بصرہ کی گورنری سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو معزول کیا اور ان کی جگہ پر ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو گورنر بنایا تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کا خط لکھ کر دیا۔ ۱۵: مسلمانوں کے معاملات میں نصاریٰ سے عدم تعاون: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس فتح شام کا خط آیا، آپ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اپنے محرر کو بلاؤ، وہ مسجد میں لوگوں کو یہ خط پڑھ کر سنائے۔ ابوموسیٰ نے کہا: وہ مسجد میں نہیں داخل ہو سکتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیوں؟ کیا وہ جنبی ہے؟ آپ نے جواب دیا: نہیں بلکہ اس لیے کہ وہ نصرانی ہے۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی سرزنش کی اور کہا: ’’ان کو قریب نہ کرو، اللہ نے انہیں دور کر دیا ہے، انہیں عزت نہ دو، اللہ نے انہیں ذلیل کر دیا ہے، انہیں امانت دار نہ جانو، اللہ نے انہیں خائن کہا ہے۔ میں نے تم کو اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) سے تعاون لینے سے منع کیا ہے، کیونکہ وہ رشوت کو حلال مانتے ہیں۔‘‘ ’’ اُشِّق‘‘ کا بیان ہے کہ میں سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کا ایک نصرانی غلام تھا، تو آپ نے مجھ سے کہا: اسلام لے آؤ تاکہ مسلمانوں کے بعض معاملات میں ہم تم سے مدد لے سکیں، کیونکہ جو مسلمان نہیں ہے ہم اس سے مسلمانوں کے مسائل میں کام لینا اچھا نہیں سمجھتے اور جب آپ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ نے مجھے آزاد کر دیا اور کہا: جہاں چاہو جا سکتے ہو۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے گورنران ریاست کی چند اہم صفات وخصوصیات صحیح عقیدہ، اسلامی شریعت کا علم، اللہ پر اعتماد کامل، قدوہ حسنہ، صداقت، دینی صلاحیت، شجاعت، مروت، زہد و ورع، جذبہ فدائیت، تواضع، نصیحت کی قبولیت، بردباری، صبر، حوصلہ مندی، بلند ہمتی، دور اندیشی، عدل و انصاف اور مشکلات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت و قدرت جیسے اوصاف حمیدہ واخلاق عالیہ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے گورنروں کی اہم صفات تھیں، ان میں جن چند اوصاف میں انہیں امتیازی شان حاصل ہے اس کی تفصیل اس طرح ہے: ۱: زہد: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے گورنران میں سعید بن عامر بن حذیم، عمیر بن سعد، سلمان فارسی، ابو عبیدہ بن جراح اور