کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 519
کی گہرائی معلوم کرے تاکہ اسے فوجی گزرگاہ بنایا جا سکے اور وقت سخت سردی کا تھا، فوجی مجاہد نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ اگر پانی میں اتروں گا تو مر جاؤں گا۔ لیکن امیر نے اسے مجبور کیا۔ چنانچہ وہ آدمی چیخ چیخ کر ہائے عمر! ہائے عمر! کہتے ہوئے (مجبوراً) دریا میں اتر گیا اور تھوڑی دیر ہی میں وفات پا گیا۔ جب سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کی خبر ملی تو آپ مدینہ کے بازار میں تھے، آپ نے واقعہ سنتے ہی کہا: ’’ہائے اے فلاں! میں حاضر ہوں، ہائے اے فلاں! میں حاضر ہوں۔ پھر آپ نے فوراً امیر لشکر کو طلب کیا اور امارت سے سبکدوش کرتے ہوئے کہا: ’’اگر اطاعت امیر کا شرعی حکم نہ ہوتا تو آج میں تجھ سے بدلہ لیتا، آج سے تم میرے کسی کام کے لائق نہیں ہو۔‘‘ آپ نے اپنے گورنروں کے درمیان خطبہ دیتے ہوئے کہا: ’’امام (حاکم) کی نرمی وبردباری سے بڑھ کر اللہ کے نزدیک کوئی بردباری محبوب اور عام نہیں ہے اور اسی طرح حاکم کی جہالت وحماقت سے بڑھ کر کوئی چیز اللہ کے نزدیک مبغوض نہیں ہے۔ یاد رکھو! جو شخص اپنے ماتحتوں کے ساتھ عفو ودرگزر اور شفقت ومہربانی کرتا ہے وہ اپنے بڑوں کی طرف سے بھی عافیت ومہربانی سے نوازا جاتا ہے۔‘‘ ۶: اپنے قرابت داروں میں سے کسی کو حاکم نہ بنانا: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی یہ پوری کوشش ہوتی تھی کہ اگرچہ آپ کے بعض قرابت داروں مثلاً چچا زاد بھائی سعید بن زید اور لڑکے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اسلام میں سبقت حاصل ہے اور عہدہ سنبھالنے کی صلاحیت بھی موجود تھی، لیکن ان میں سے کسی کو گورنر نہیں بنایا۔ آپ کے ہم نشینوں میں سے ایک آدمی نے ایک مرتبہ آپ سے کوفہ کے گورنران کے ساتھ کوفہ والوں کے عدم تعاون کی شکایت سنی اور آپ کو یہ بھی کہتے ہوئے سنا کہ میری خواہش ہے کہ اگر کوئی طاقت ور اور امانت دار مسلمان مل جاتا تو میں اسے ان پر گورنر بنا کر بھیجتا۔ اس آدمی نے یہ سن کر کہا: اللہ کی قسم! اس سلسلہ میں ایک آدمی کی نشان دہی کر رہا ہوں، وہ ہیں عبداللہ بن عمر۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تمہیں غارت کرے، اللہ کی قسم! تو نے اس رائے سے اللہ کی خوشنودی نہیں چاہی ہے۔ نیز آپ کہا کرتے تھے: ’’جس نے ذاتی محبت یا قرابت داری کی بنا پر کسی کو حاکم بنایا اور اس کے علاوہ اور کوئی وجہ ترجیح نہیں ہے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کی۔‘‘