کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 501
قوت فراہم کرتا تھا۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ یہاں کے والی (گورنر) تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں انھیں یہیں اسی منصب پر باقی رکھا۔ خلافت فاروقی میں بھی دو سال تک آپ یہاں کے گورنر رہے، لیکن اس وقت آپ کا دل جذبہ جہاد سے معمور تھا، چنانچہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اس سلسلہ میں خط لکھا اور جہاد میں شرکت کی اجازت مانگی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تو آپ کو معزول نہیں کرسکتا، البتہ آپ باشندگان طائف میں سے جسے اپنا نائب مناسب سمجھیں بنالیں اور پھر عمر رضی اللہ عنہ نے بعد میں عثمان رضی اللہ عنہ کو عمان اور بحرین کا گورنر مقرر کیا۔ تاریخی روایات میں یہ بات ملتی ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جب وفات ہوئی تو اس وقت سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ وہاں کے گورنر تھے۔ ان کے اور امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے درمیان شہد، میوہ جات اور سبزیوں سے زکوٰۃ لینے کے متعلق خط و کتابت ہوتی رہتی تھی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ دور فاروقی میں طائف زرعی پیداوار کی فراوانی اور بکثرت کھیتیوں والا شہر تھا۔ آپ کے عہد میں طائف اور اس کے قرب و جوار کے شہروں کو استحکام اور خوشحالی نصیب تھی۔ مکہ کے لوگ گرمی کے موسم میں یہاں خوشگوار فضا کے مزے لینے آیا کرتے تھے۔ اس طرح دور فاروقی میں اسلامی سلطنت کے اہم شہروں میں طائف کا شمار ہوتا رہا۔ یمن: عمر فاروق رضی اللہ عنہ جس وقت مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے اس وقت یمن خوشحال اور امن و استقرار کی دولت سے مالا مال تھا۔ اس کے مختلف علاقوں اور اطراف میں پھیلے ہوئے امراء و افسران کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے وہاں کا انتظام و انصرام بھی کافی بہتر تھا۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ افسران کو یمن میں بھی ان کے مناصب پر باقی رکھا۔ یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ جو ابوبکر صدیق کے مقرر کردہ یمن کے گورنر تھے، عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں یمن کے گورنر تھے، جن کا نام آپ کے دور میں خوب روشن ہوا۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ یعلی رضی اللہ عنہ کی نیک نامی سے لوگوں کو یہاں تک خیال پیدا ہوگیا کہ شاید یمن کی گورنری کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے نائب یہی بنیں اور عمر رضی اللہ عنہ کی وفات تک یہ بات لوگوں میں مشہور رہی۔ تاریخی مصادر میں والی یمن یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کے تعلق ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اور بعض یمنی باشندوں کے درمیان کچھ مسائل پر اختلاف بھی رہا، مزید برآں بعض معاملات سے متعلق ان کے خلاف شکایات لے کر بعض