کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 488
حکم ومشورہ کو چیلنج کردیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی ذمہ داری کے مقام ومرتبہ کے لحاظ سے سخت ردّ عمل ظاہر کیا کہ منصب خلافت کا وہ دبدبہ محفوظ رہے جسے آپ صرف حقوق کی حفاظت اور تمام مسلمانوں کے افادۂ عام کی خاطر ہی استعمال کرتے تھے۔  آپ نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین شمار کیا: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک شمار کی جاتی تھیں۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگ اس معاملے میں جلدی کرنے لگے ہیں جس میں ان کے لیے مہلت تھی، لہٰذا اگر ہم اسے ان پر نافذ کردیتے (تو اچھا ہوتا) چنانچہ آپ نے ایسا ہی کردیا۔  ابوصہباء سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ عہد نبوت، عہد صدیقی اور خلافت فاروقی کے ابتدائی تین سالوں میں تین طلاقیں ایک شمار کی جاتی تھیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہاں۔  مذکورہ دونوں آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے سے معمول بہ طریقہ … یعنی ایک لفظ یا ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ماننے … کے خلاف عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین شمار ہوں گی اور اس تعزیری وتادیبی کارروائی کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے دیکھا کہ لوگ تین طلاقیں ایک ساتھ کثرت سے دینے لگے ہیں، تو ضروری سمجھا کہ (ان پر سختی کرکے) انہیں مسنون و شرعی طریقۂ طلاق کی طرف لوٹایا جائے اور وہ طریقہ یہ  ہے کہ ایک طلاق دینے کے بعد عورت کو چھوڑ دیا جائے (رجعت نہ کی جائے) یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہوجائے۔ لیکن اگر وہ اس کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے یا رشتۂ زوجیت میں رکھنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ عدت پوری ہونے سے پہلے اس کی طرف رجوع کرلے یہاں تک کہ تین طلاقیں پوری ہوجائیں۔  ڈاکٹر عطیہ مصطفی مشرفہ جیسے بعض لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے اس اقدام کو نصوص شرعیہ کے مخالف قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے: