کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 480
بیوی بچوں کی خیریت معلوم کرنے گیا تو دیکھا کہ گھر میں ایک چراغ جل رہا ہے اور ایک یہودی اس کے بھائی کی بیوی کے ساتھ گھر میں موجود ہے، اور شعر پڑھ رہا ہے: واشعث غرۃ الاسلام منی خلوت بعرسہ لیل التمام ’’میری وجہ سے اسلام کی چمک داغ دار ہوگئی، میں اس (اسلامی مجاہد) کی بیوی کے ساتھ طویل رات خلوت میں رہا۔‘‘ ابیت علی ترائبہا ویمسی علی جر داء لاحقۃ الحزام ’’میں اس کی دوشیزہ کے ساتھ اس کے پستانوں سے لپٹ کر رات گزارتا ہوں اور وہ چٹیل تنگ زمین میں رات گزارتا ہے۔‘‘ کان مجامع الربلات منہا فئام ینہضون الی فئام ’’رانیں اور شرمگاہ اس کی ایسی جماعت ہے جو استقبال کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔‘‘ یہ منظر دیکھ کر مجاہد کا بھائی اپنے گھر آیا، تلوار سونتی اور اپنے بھائی کی بیوی کے پاس پہنچا اور یہودی کو قتل کردیا، پھر اسے ننگا کرکے راستے میں پھینک دیا۔ جب صبح ہوئی تو یہودیوں نے دیکھا کہ ان کا ایک آدمی قتل کردیا گیا ہے اور قاتل کا پتہ نہیں ہے۔ چنانچہ وہ سب عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور واقعہ سے آپ کو آگاہ کیا۔ آپ نے ’’اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ‘‘ کی ندا لگوائی۔ لوگ اکٹھے ہوئے اور آپ منبر پر تشریف لے گئے۔ پھر اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ اگر کسی شخص کو اس کے قاتل کا علم ہے تو وہ مجھے بتا دے۔ وہ نوجوان کھڑا ہوا اور عمر رضی اللہ عنہ کو وہی اشعار پڑھ کر سنائے اور واقعہ کی تفصیل بتائی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تیرے ہاتھوں کو مضبوط کرے، اور پھر یہودی کا خون مباح قرار دیا۔  ۱۵: محرماتِ الٰہیہ کا تقدس چاک کرنے والے مقتول کی کبھی دیت نہیں دی جائے گی: امام عبدالرزاق نے اپنی کتاب ’’المصنف‘‘ اور امام بیہقی نے ’’السنن الکبریٰ‘‘ میں روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے ہذیل کے کچھ لوگوں کو دعوت دی اتفاق سے انہوں نے لکڑیاں لانے کے لیے اپنی لونڈی کو بھیج دیا، میزبان کو وہ لونڈی پسند آگئی اور اس نے اس کا پیچھا کیا، اور اس سے منہ کالا کرنا چاہا، لیکن لونڈی نے انکار کردیا۔ پھر دونوں میں کافی دیر تک لڑائی ہوتی رہی۔ بالآخر لونڈی بھاگ نکلی، دور آکر ایک پتھر اٹھایا اور اس آدمی کو زور