کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 472
اور اسلامی شریعت کے قواعد ومقاصد سے قریب ترین اپنی رائے کی بنا پر فیصلہ دے۔ شریح وغیرہ کو عمر رضی اللہ عنہ نے جو خطوط لکھے ان میں اس بات کو آپ نے بار بار ذکر کیا ہے۔  خلافت راشدہ کے دور میں مشاورت کا شمار بھی ان اہم وسائل میں ہوتا تھا، جن سے قاضی حضرات مدد لیتے تھے، جیسے کہ سابقہ روایات، خطوط اور ہدایات فاروقی میں یہ چیز وارد ہے۔ آپ نے قولاً وعملاً شورائیت پر بہت زور دیا، اس لیے کہ اپنی دینی بصیرت کے باوجود اہل شوریٰ سے آپ کافی لگاؤ رکھتے تھے، بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ آپ کسی کام کو انجام دیں اور ممتاز علماء صحابہ سے اس کے بارے میں مشورہ نہ لیں۔  چنانچہ شعبی کا بیان ہے کہ قضیہ عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا جاتا تھا اور کبھی کبھار آپ ایک ایک مہینہ اس کے بارے میں غور کرتے رہتے اور صحابہ سے مشورہ لیتے رہتے۔  قاضی کن دلائل پر اعتماد کرے گا قاضی اپنا فیصلہ صادر کرنے میں جن دلائل پر اعتماد کرے گا ان کی تفصیل یہ ہے: ۱: اقرار: تحریر وکتابت کے ذریعہ سے اعتراف جرم کرنا بھی اقرار کی ایک معتبر شکل ہے۔ ۲: گواہی: قاضی کے لیے ضروری ہے کہ گواہی دینے والے گواہوں کی صلاحیت ودرستی کی تحقیق کرلے، آیا کہ وہ گواہی دینے کے قابل ہیں یا نہیں، اگر وہ گواہوں کو نہ پہچانتا ہو تو ان گواہوں سے ایسے لوگوں کو لانے کا مطالبہ کرے جو اِن کی تصدیق کریں۔ ایک آدمی عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک معاملہ میں گواہی دینے آیا تو آپ نے اس سے کہا: میں تمہیں نہیں پہچانتا ، اور میرا تمہیں نہ پہچاننا تمہارے لیے کوئی نقصان دہ نہیں ہے۔ کسی ایسے شخص کو لے آؤ جو تمہاری تصدیق کردے۔ چنانچہ ایک آدمی نے کہا: میں اسے پہچانتا ہوں۔ آپ نے اس آدمی سے پوچھا: کس چیز میں تم اس کو پہچانتے ہو؟ اس نے کہا: فضل وعدالت میں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا یہ تمہارا قریبی پڑوسی ہے کہ جس کے رات اور دن اور آمد ورفت سے تم واقف ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے پوچھا: کیا تم نے اس کے ساتھ درہم و دینار کے لین دین کا کوئی معاملہ کیا ہے کہ جس کے ذریعہ سے ورع وتقویٰ کا اندازہ لگایا جاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے پوچھا: کیا یہ تمہارا رفیق سفر رہا ہے کہ جس میں اخلاق کی بلندیاں ظاہر ہوتی ہیں؟ اس نے کہا: