کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 466
معاملہ اللہ کے حوالہ ہے۔‘‘  ۱۱: طرفین میں مصالحت کی کوشش: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’مدعی و مدعا علیہ کو واپس کردیا کرو تاکہ باہم صلح کرلیں، کیونکہ عدالت کا قطعی فیصلہ لوگوں میں کینہ وکدورت ڈالنے کا سبب بنتا ہے۔ اگر وہ باہم ایسی صلح کرکے لوٹیں جو شریعت الٰہی کے موافق ہو تو قاضی کو چاہیے کہ اسے نافذ کردے، اور اگر وہ شریعتِ الٰہی کے خلاف ہو تو قاضی کو چاہیے کہ اس صلح کو توڑ دے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’صلح ومصالحت مسلمانوں کے درمیان جائز ہے مگر ایسی صلح (جائز نہیں جو) حرام کو حلال اور حلال کو حرام کردے۔‘‘  قاضی کو چاہیے کہ خاص کر ایسے وقت صلح کرانے کی زیادہ کوشش کرے جب اس کے سامنے کوئی صحیح فیصلہ سمجھ میں نہ آسکے، کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا: ’’جب صحیح فیصلہ تمہاری سمجھ میں نہ آسکے تو مدعی و مدعا علیہ میں صلح کرانے کی بھرپور کوشش کرو اور اسی طرح اگر دونوں فریق قریبی رشتہ دار ہوں تب بھی صلح کے لیے زیادہ کوشش کرو کیونکہ فیصلہ ان میں باہمی کدورت ڈال دے گا۔‘‘  ۱۲: حق کی طرف پلٹنا: جب قاضی کسی معاملہ میں کوئی فیصلہ کردے، پھر اس جیسے دوسرے مسئلہ میں دوبارہ اجتہاد کی بنا پر اس کی سمجھ میں دوسرا فیصلہ برحق معلوم ہو تو اس کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ اجتہاد جدید کی بنا پر پہلے فیصلے کو کالعدم قرار دے دے، (کیوں کہ پہلا فیصلہ پہلے اجتہاد کی روشنی میں تھا اور دوسرا فیصلہ دوسرے اجتہاد کی بنا پر ہے۔) اسی طرح اس کے بعد آنے والے دوسرے قاضی کے لیے بھی فیصلہ کو کالعدم قرار دینا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ سالم بن ابوالجعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر علی رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں کبھی عمر رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرنے والے ہوتے تو اس موقع پر ضرور اعتراض کرتے جب ان کے پاس نجران کے نصاریٰ اپنا قضیہ لے کر آئے تھے، اور علی رضی اللہ عنہ نے ہی نجرانیوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ لکھا تھا۔ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا، چنانچہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ