کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 456
کے ہاتھ ہے۔ (دنیا میں قانونی) سزا سے بچنے کے لیے اس نے گواہی اور حلف (قسم) کو ضروری قرار دیا ہے۔ خبردار! انصاف انعام الٰہی اور اچھی شہرت کا موجب ہے۔ تمہارے دل میں اہل مقدمہ سے اکتاہٹ، خفگی یا چڑچڑاپن پیدا نہ ہو، اور نہ برحق فیصلہ کرنے میں کہ جس سے اجر ملتا ہے اور ناموری حاصل ہوتی ہے، فریقین کے ساتھ بدمزاجی سے پیش آؤ، کیونکہ جو شخص اپنے معاملات میں سچا اور مخلص ہوتا ہے اللہ لوگوں سے اس کے معاملات کے لیے کافی ہوتا ہے اور جو لوگوں کے سامنے ریا کرتا ہے اللہ اسے ذلیل ورسوا کردیتا ہے۔ جب وہ خلوص پر آخرت میں اجر دیتا ہے تو یہاں دنیا میں کیوں نہ دے گا، رزق ورحمت کے خزانے یہاں بھی اللہ مخلص لوگوں پر کھول دیتا ہے۔ والسلام‘‘ آپ کا یہ مثالی وحیرت انگیز خط قضاء کے آداب اور فیصلہ کے زرّیں اصولوں کو سمیٹے ہوئے ہے اور کئی صدیاں گزر جانے کے بعد بھی آج تک علمائے کرام ان عدالتی اصولوں کی تشریح وتعلیق میں لگے ہوئے ہیں۔ ہر وہ شخص جو اس فاروقی دستور عدل کو پڑھتا ہے اس کے لیے اب بھی یہ چیز نہایت حیرت انگیز اور فکری وجود کو جھنجھوڑنے والی ثابت ہوتی ہے۔ اس خط کے علاوہ اگر آپ کے دیگر حکیمانہ اقوال ونقوش نہ بھی ہوتے تو آپ کا شمار دنیا کے عظیم ترین مفکرین اور قانون دانوں میں ہوتا۔ اگر آج کے اس دور میں جب کہ فیصلہ وعدلیہ کے اصول وضوابط عام ہوچکے ہیں اور اسکولوں وکالجوں میں طلبہ اسے پڑھتے اور یاد کرتے ہیں، صدر مملکت یا وزیراعظم اگر اس طرح کا کوئی ضابطہ تحریر کرے تو وہ سب سے بڑا قانون دان شمار ہونے لگے گا، پھر بھلا اس عمر رضی اللہ عنہ کی قانون دانی کا کیا کہنا، جس نے آج سے چودہ صدیاں پیشتر نظام عدل میں تحریر کیا۔ انہوں نے اسے کسی کتاب سے نقل نہیں کیا تھا اور نہ کسی استاد سے پڑھا تھا بلکہ یہ خود آپ کے اجتہاد اور ذہنی کاوش کا نتیجہ تھا۔ اور یہ دستور کیا تھا کہ دراصل دار ارقم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کلمہ توحید یعنی (( اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔))کا آپ نے جو برملا اقرار کیا اور دست نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس بابرکت درخت (اسلام) کی آپ کے دل میں شجر کاری ہوئی تھی اس کے ہزاروں پھلوں میں سے ایک حیات بخش پھل تھا۔  نظامِ قضاء میں آپ کے اس خط کی بھی کافی اہمیت ہے جسے آپ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے نام تحریر کیا تھا، وہ یہ تھا: ’’…… اما بعد! میں تمہیں یہ خط لکھ رہا ہوں، اس میں اپنی اور تمہاری بھلائی کی میں نے حتی الامکان کوشش کی ہے۔