کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 43
طرف راہنمائی کی جو فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑکی تھیں اور آپ نے فرمایا: آپ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق ہونے کی وجہ سے شادی کرلو، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو پیغام دیا، علی رضی اللہ عنہ نے اُمّ کلثوم رضی اللہ عنہا سے آپ کی شادی کر دی اور عمر رضی اللہ عنہ نے اُمّ کلثوم رضی اللہ عنہا کو ۴۰ ہزار مہر ادا کیا، ان سے زید اور رقیہ کی ولادت ہوئی۔ اسی طرح آپ نے لُھْیَہ نامی ایک یمنی عورت سے شادی کی، اس سے عبد الرحمن اصغر کی ولادت ہوئی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ منجھلے عبد الرحمن تھے۔ واقدی کا بیان ہے کہ یہ آپ کی بیوی نہ تھیں بلکہ اُمّ ولد تھیں۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ آپ کی ماتحتی میں فکیہہ نامی امّ ولد تھی اور اس سے زینب کی ولادت ہوئی تھی۔ واقدی کے مطابق آپ کی اولاد میں یہ سب سے چھوٹی بچی تھی۔ اس طرح مجموعی طور پر آپ کے کل تیرہ اولادیں ہوئیں: ’’زید اکبر، زید اصغر، عاصم، عبداللہ، عبدالرحمن اکبر، عبدالرحمن اوسط، عبدالرحمن اصغر، عبیداللہ، عیاض، حفصہ، رقیہ، زینب اور فاطمہرضی اللہ عنہم ۔‘‘ آپ کی بیویاں جن سے آپ نے زمانۂ جاہلیت یا اسلام میں شادی کی، پھر ان کو طلاق دے دی جو آپ کی عصمت میں وفات تک رہیں ان کی مجموعی تعداد سات ہے۔ آپ کثرت اولاد اور امت محمدیہ میں اضافہ کی نیت سے شادیاں کرتے تھے۔ آپ کا قول ہے: ((ما آتی النساء للشہوۃ ولولا الولد ما بالیت ألا أری امرأۃ بعیني۔))  ’’میں صرف شہوت بجھانے کی نیت سے عورتوں کے پاس نہیں آتا، اگر اولاد کا معاملہ نہ ہوتا تو مجھے اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہ ہوتی کہ اپنی آنکھوں سے کسی عورت کو دیکھوں۔‘‘ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا: (( انی لأکرہ نفسی علی الجماع رجاء أن یخرج اللّٰه منی نسمۃ تسبحہ وتذکرہ۔))  ’’میں خود کو جماع کرنے پر اس لیے مجبور کرتا ہوں کہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ میرے نطفہ سے ایسی اولاد عطا کر دے جو اس کی تسبیح کرے اور اس کو یاد کرے۔‘‘ زمانۂ جاہلیت کی زندگی: عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کا لمبا عرصہ زمانۂ جاہلیت میں گزارا اور قریش کے اپنے ہم عمروں کے ساتھ پلے بڑھے، آپ اس اعتبار سے ان سے ممتاز تھے کہ آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پڑھنا سیکھ لیا تھا اور ایسے