کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 425
کیا۔ آپ نے اسے ہی نافذ کردیا۔ آپ وہاں کے زمینداروں اور دیگر باشندوں پر خاص توجہ رکھتے تھے اور انہیں عدل پہنچانے کی کوشش کرتے تھے، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عثمان اور حذیفہ رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو ان کی طاقت سے زیادہ خراج (لگان) کی ادائیگی پر مجبور کیا ہو۔ آپ نے اس شبہ کی وضاحت چاہتے ہوئے ان دونوں سے پوچھا: تم نے زمین پر خراج (لگان) کیسے مقرر کیا ہے؟ شاید تم نے مالکان زمین کو ان کی طاقت سے زیادہ کی ادائیگی پر مجبور کیا ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے اس سے زیادہ ان کے لیے چھوڑ دیا ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دوگنا چھوڑ دیا ہے، اگر آپ کہیں تو ان سے وہ بھی وصول کرلوں۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! اگر میں عراق کی بیواؤں کے لیے زندہ رہا تو انہیں اس حال میں چھوڑوں گا کہ وہ میرے بعد کسی امیر کی محتاج نہ رہیں گی۔  جو معاملہ سواد عراق کے ساتھ کیا گیا بالکل یہی طریقہ مصر کی مفتوحہ زمین کے ساتھ بھی اپنایا گیا، البتہ وہاں اس کی ذمہ داری عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے نبھائی اور جس یونٹ (متعینہ حد) کو معیار بنا کر اس پر خراج لاگو کیا گیا وہ ایک ایکڑ اراضی یعنی تقریباً چار ہزار مربع میٹر زمین تھی۔  عمر رضی اللہ عنہ نے شام کی زمین کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا، البتہ جس زمین پر خراج مقرر کیا گیا اس کا کل رقبہ کتنا تھا؟ وہاں کے کھیتوں اور پھلوں کی کیا نوعیت تھی؟ اور اس زمین کی پیمائش وبندوبست کس نے کی؟ اس سلسلہ میں مؤرخین نے کوئی واضح اور صریح معلومات نقل نہیں کی ہیں۔  اس سلسلہ میں خلیفۃ المسلمین عمر رضی اللہ عنہ اتنے دور اندیش وباریک بین تھے کہ مفتوحہ علاقوں پر اپنے گورنروں کو حاکم مقرر کرنے سے پہلے وہاں کے اموال وجائداد کا مکمل خاکہ معلوم کرلیتے اور جب وہ اپنے منصب سے معزول اور مستعفی ہوتے تو دوران حکومت حکام جو مال بھی بچا کر اپنے پاس رکھے ہوتے آپ اسے واپس کرنے کا حکم دیتے بشرطیکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ ان کو ملنے والے وظائف کے حساب سے زیادہ ان کے پاس مال جمع ہے۔  آئندہ صفحات میں جب میں فاروقی گورنروں کا بیان آئے گا تو وہاں ان شاء اللہ اس پر تفصیلی بحث ہو گی۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ عراق، شام اور مصر سے اسلامی بیت المال کے لیے عمر رضی اللہ عنہ نے جن مستقل ومخصوص جائداد اور ذرائع آمدنی کو منتخب کیا وہ کافی ہوگئیں، اور پھر ملکی خزانے میں فراوانی پیدا کرنے میں ان سرکاری ذرائع آمدنی کا کافی دخل رہا، خاص طور پر مصر میں، کیونکہ وہاں پچھلے زمانہ میں شاہان عجم کی ملکیت سے چھوڑی ہوئی اور مسلمانوں کی ملکیت میں آنے والی قابل زراعت زمینوں کا رقبہ کافی وسیع تھا۔