کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 422
نیز حدیث کی صحیح و معتبر کتب سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے خطبہ میں فرمایا تھا: (( إِنَّ ہٰذَا الْبَلَدَ حَرَمٌ حَرَّمَہُ اللّٰہُ وَلَمْ یَحِلَّ فِیْہِ الْقِتَالُ لِأَحَدٍ قَبْلِیْ وَاُحِلَّ لِیْ سَاعَۃً فَہُوَا حَرَامٌ بِحُرْمَۃِ اللّٰہِ۔))  ’’بلاشبہ یہ شہر حرم یہ جسے اللہ تعالیٰ نے حرم قرار دیاہے، اس میں قتال کرنا مجھ سے پہلے کسی کے لیے جائز نہیں تھا، صرف میرے لیے ایک گھڑی ( کچھ مخصوص وقت) حلال کی گئی ، اب وہ بھی اللہ کی حرمت کے ساتھ حرام ہے۔‘‘ جو اس بات کی دلیل ہے کہ مکہ بذریعہ جنگ فتح ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر مغفر (لوہے کا خود) تھا، آپ احرام کی حالت میں وہاں نہیں گئے تھے، پس اگر اہل مکہ نے آپ سے صلح کی ہوتی تو آپ کے لیے اس کے حلال ہونے کے کوئی معنی نہ ہوتے جیسا کہ اگر آپ ان بستی والوں سے صلح کرتے جو حدود حرم سے باہر ہیں، بلد حرام مکہ کے حلال کیسے ہوسکتا تھا جب کہ اس کے باشندے آپ سے مصالحت کرچکے تھے؟ مزید برآں فتح مکہ کے موقع پر اہل مکہ نے خالد رضی اللہ عنہ سے قتال و جدال کیا اور مسلمانوں کے ایک گروہ نے کافروں کے ایک گروہ کو قتل کیا۔ خلاصہ یہ کہ فتح مکہ سے متعلق آثار و روایات پر جو شخص بھی غور کرے گا وہ یقینا جان لے گا کہ مکہ بذریعہ جنگ فتح ہوا تھا۔ اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سرزمین کو تقسیم نہیں کیا اور نہ وہاں کے مردوں کو غلام بنایا، چنانچہ خیبر بذریعہ جنگ فتح ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مفتوحہ اراضی کو فاتحین میں تقسیم کیا اور مکہ بھی بذریعہ جنگ فتح ہوا لیکن آپ نے اس کی زمین کو فاتحین میں تقسیم نہ کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں عمل جائز ہیں  اور جب مسئلہ میں اتنی وسعت ہے تو مفتوحہ اراضی کو فاتحین میں تقسیم نہ کرنے کی وجہ سے عمر رضی اللہ عنہ سنت نبوی کے مخالفت نہیں کہے جائیں گے۔ دراصل آپکا یہ موقف جن چند دلائل پر مبنی تھا وہ یہ تھے: ۱: سورہ حشر کی فے والی آیت۔ ۲: بذریعہ جنگ فتح مکہ کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل کہ آپ نے وہاں کی زمین وہاں کے باشندوں کے حوالے کردی اور اس پر خراج نہیں مقرر کیا۔ ۳: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے اس مسئلہ کے لیے منعقد کی گئی میٹنگ میں کافی بحث و مباحثہ کے بعد پاس کی جانے والی قرارداد۔ بہرحال اس مسئلہ میں فاروقی موقف کی صحت ثابت ہوجانے کے بعد بذریعہ جنگ مسلمانوں کی ملکیت