کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 412
کے تمام تر احکامات اس بات کی دلیل ہیں کہ جزیہ کا شعبہ اسلامی سلطنت کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور یہ کہ جزیہ کی ایک اساسی شکل وحیثیت بھی ہے کیونکہ ذمیوں کا اسلامی سلطنت کو ٹیکس ادا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اسلامی حکومت کے تئیں مخلص، اس کے احکام وقوانین کو ماننے والے، اور اپنے عہد وپیمان کے وفادار ہیں  اور بعض لوگ جیسے کہ حسن ممی کا خیال ہے کہ جزیہ مالی حیثیت سے زیادہ سیاسی حیثیت کا متحمل ہے۔  لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس کی سیاسی اور مالی دونوں حیثیتیں ہیں اور یہ اسلامی سلطنت کی آمدنی کا ایک ذریعہ ہے۔ تغلب کے نصاریٰ سے سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کا دوگنا صدقہ وصول کرنا: جزیرہ عرب کے بعض نصاریٰ نے جزیہ ادا کرنے سے انکار کردیا، کیونکہ وہ اسے اپنے لیے باعث ذلت وحقارت سمجھتے تھے۔ ولید رضی اللہ عنہ نے نصاریٰ کے بڑوں، بزرگوں اور علماء کو سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ آپ نے ان سے کہا: جزیہ دو، انہوں نے کہا: آپ ہمیں ہمارے جائے امن پر پہنچا دیں۔ اللہ کی قسم! اگر آپ نے ہم پر جزیہ مقرر کیا تو ہم روم کی سرزمین میں چلے جائیں گے، اللہ کی قسم آپ عربوں کے درمیان ہمیں رسوا کرتے ہیں۔ آپ نے ان سے فرمایا: تم نے بذاتِ خود اپنے کو رسوا کیا اور اپنی قوم کی مخالفت کی۔ اللہ کی قسم تمہیں ذلت ورسوائی برداشت کرتے ہوئے اسے ضرور ادا کرنا پڑے گا اور اگر تم روم بھاگ کرگئے تو حاکم روم کے پاس تمہارے متعلق خط لکھوں گا، پھر تمہیں قیدی بناؤں گا۔ انہوں نے کہا: آپ ہم سے کچھ لے لیں لیکن اسے جزیہ نہ کہیں۔ آپ نے فرمایا: ہم تو اسے جزیہ ہی کہیں گے، تم جو چاہے اسے نام دو۔ سیّدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: امیر المومنین! کیا سعد بن ابی وقاص نے ان لوگوں پر زکوٰۃ دوگنی نہیں کردی ؟ آپ نے فرمایا: ہاں کی ہے اور پھر آپ نے معاملہ پر غور کیا تو ان کے لیے یہی بدلہ مناسب پایا، پھر وہ سب واپس چلے گئے۔  یہ واقعہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ ایسے متکبر دشمنان دین جو اپنی بڑائی اور شوکت وقوت کے حوالے سے مسلمانوں کو مخاطب کریں، اور غیر مسلم ممالک میں پناہ لینے کی دھمکی دیں ان کے ساتھ کس طرح برتاؤ کرنا چاہیے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ امیر المومنین سر چڑھے ومتکبر ذمیوں سے نہایت سخت لہجے میں ہم کلام ہوئے، ان کو حقارت کا احساس دلایا، اور دھمکی دی کہ اگر غیر مسلم ممالک کی طرف بھاگنے کی کوشش کی تو انہیں قیدی بنا کر واپس لایا جائے گا اور مقاتلین جیسا برتاؤ کیا جائے گا یعنی ان کے بچوں اور عورتوں کو لونڈیاں اور غلام بنا لیں گے، پھر یہ برتاؤ ان کے لیے جزیہ دینے سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوگا۔ اس طرح آپ کے اس سخت جواب نے ان کے سروں سے تکبر وبرتری کے احساس کو بالکل ختم کردیا اور وہ سر جھکائے ہوئے امیر المومنین سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے واپس