کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 406
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو رائے دی کہ ان کے گھوڑوں اور غلاموں سے زکوٰۃ لی جائے، چنانچہ آپ نے یہ رائے پسند کی اور گھوڑوں وغلاموں کو سامانِ تجارت مان کر غلاموں پر خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے ایک دینار جو دس درہم کے مساوی ہے زکوٰۃ مقرر کی، اور عربی گھوڑوں پر دس درہم اور غیر عربی گھوڑوں پر پانچ درہم زکوٰۃ مقرر کی۔ آپ کا یہ عمل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خدمت گزار غلاموں، اور جہاد کے لیے تیار کیے گئے گھوڑوں پر آپ نے زکوٰۃ نہیں لی، کیونکہ ان کا شمار سامانِ تجارت میں نہیں ہوتا بلکہ جو لوگ خدمت کے غلاموں اور جہاد کے گھوڑوں کی زکوٰۃ ادا کرتے تھے آپ ان کو اس کے عوض دو کوئنٹل (دو سو کلو گرام) گندم دیتے، اور یہ مقدار بہرحال زکوٰۃ کی زیادہ قیمت ہے۔ آپ نے یہ اقدام اس لیے کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: (( لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِ فِیْ فَرَسِہٖ وَلَا فِیْ عَبْدِہٖ صَدَقَۃٌ۔))  ’’مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘ آپ نے رکاز (مالِ مدفون) مل جانے کی صورت میں اس سے خمس لیا، آپ کی کوشش تھی کہ مال گردش کرتا رہے اور اس کو کاروبار میں لگایا جائے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کچھ سال گزرنے کے بعد اس پر مفروضہ زکوٰۃ کا نصاب ہی ختم ہوجائے۔  چنانچہ آپ کے پاس ایک یتیم کا مال تھا آپ نے اسے بغرضِ تجارت حکم بن ابی العاص ثقفی کو دے دیا۔  کیونکہ آپ خلافت کی ذمہ داریوں میں مشغول تھے، اور آپ کے پاس اتنا وقت نہ تھا کہ خود اس سے تجارت کرتے اور جب جلد ہی منافع کی بہتات ہوگئی اور دس ہزار درہم سے وہ مال ایک لاکھ تک پہنچ گیا تو آپ کو کمائی کے طریقے پر شک ہونے لگا، چنانچہ تحقیق کے بعد جب آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ تاجر نے عمر رضی اللہ عنہ کے یتیم کا حوالہ دے کر ناجائز فائدہ اٹھایا ہے تو آپ نے سارا منافع پھینک دیا، کیونکہ آپ نے اسے ناپاک سمجھا اور یتیم کے اصل مال کو واپس لے لیا۔گویا آپ اسی نقطۂ نظر سے کام کررہے تھے جسے اپنے امراء اور گورنروں پر واجب کیا تھا۔ وہ نقطہ نظر یہ تھا کہ اسلامی سلطنت میں منصب وذمہ داری کے استحصال کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے اور اسی بنیاد پر جب والیان ریاست کے مال میں تجارت کے ذریعہ سے اضافہ ہوتا تھا تو آپ اسے تقسیم کرلیا کرتے تھے۔  جیسے کہ والیانِ ریاست کے تذکرہ میں ان شاء اللہ آپ دیکھیں گے۔