کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 399
تھی کہ ہر موڑ پر نصرتِ الٰہی جس کی حلیف ٹھہری اور جس کے غلبہ وقوت کا رعب ہر انسان کے دل میں بیٹھ چکا تھا۔  ۵: طاعون زدہ زمین میں جانے اور نکلنے کا حکم: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( إِذَا سَمِعْتُمْ بِہٖ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوْا عَلَیْہِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِہَا فَلَا تَخْرُجُوْا فِرَارًا مِنْہُ۔))  ’’جب تم اس وباء (طاعون) کے بارے میں سنو کہ وہ کسی شہر وبستی میں واقع ہے تو تم وہاں نہ جاؤ، اور جب یہ کسی علاقے میں پھیل جائے اور تم اس میں موجود ہو تو وہاں سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے نہ بھاگو۔‘‘ طاعون زدہ زمین میں جانے اور وہاں سے نکلنے کی ممانعت کے مفہوم کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اختلاف رہا ہے، بعض صحابہ نے حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کیا ہے، اور بعض نے اس کی تاویل کی ہے۔ جن لوگوں نے ممانعت کی تاویل کی ہے انہوں نے طاعون زدہ زمین سے نکل جانے کو جائز قرار دیا ہے، اور پچھلے صفحات میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے طاعون زدہ بستی سے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو نکالنے کی کیسی تدبیر اپنائی تھی، لیکن ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس سے انکار کردیا تھا۔ اسی طرح عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ تالاب اور گڑھوں سے بھری ہوئی سیلن والی زمین سے مسلمانوں کو لے کر صحت افزا اور بہترین آب وہوا والے علاقے میں چلے جائیں اور پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا تھا۔ واضح رہے کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے نام مذکورہ خط اس وقت لکھا تھا جب مقام ’’سرغ‘‘ پر ان دونوں کی ملاقات ہوچکی تھی اور طاعون زدہ علاقے میں جانے اور وہاں رہتے ہوئے نہ نکلنے کی ممانعت پر عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث دونوں سن چکے تھے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ وہیں سے مدینہ واپس لوٹ آئے تھے۔ بہرحال اس وقت کے حالات بتاتے ہیں کہ جب آپ وہاں سے واپس لوٹے تھے تو یہ وباء اپنے ابتدائی مراحل میں تھی، وہ ابھی پھیلی نہ تھی اور نہ اس میں شدت ہی آئی تھی، لیکن جب آپ واپس ہو کر مدینہ پہنچ گئے تو طاعون کے سبب مسلمانوں کی بکثرت موت کی خبریں آپ کو پہنچنے لگیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے طاعون زدہ علاقے سے نکلنے کا جو مفہوم سمجھا تھا اس کی تائید بعض ایسے صحابہ کے عمل سے بھی ہوئی جنہوں نے شام میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ زندگی گزاری، اور خود اس مصیبت وآزمائش سے دوچار ہوئے۔ مثلاً عمرو بن عاص اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما وغیرہما۔ دراصل اختلاف طاعون زدہ زمین میں جانے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس بارے میں ہے کہ اس زمین