کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 389
اس واقعہ میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی دعا کی مشمولات سے متعلق ایک روایت میں یہ وارد ہے: ’’اے اللہ کوئی بھی مصیبت گناہوں ہی کی پاداش میں آتی ہے، اور صرف توجہ کے ذریعہ سے ختم ہوتی ہے، تیرے نبی ہی سے میرا تعلق ہونے کی وجہ سے پوری قوم میری دعاؤں کے ذریعہ سے تیری طرف متوجہ ہے، یہ میرے ہاتھ ہیں جو گناہوں سے رنگے ہوئے ہیں، اور ہماری پیشانیاں توبہ کے ساتھ تیری طرف متوجہ ہیں، تو ہمیں بارش عطا فرما۔‘‘ چنانچہ پہاڑ کی مانند آسمان لٹک گیا یہاں تک کہ زمین پر ہریالی چھا گئی، اور لوگوں کو زندگی مل گئی۔‘‘  ۵: قحط سالی کے موقع پر شرعی حد کے نفاذ پر پابندی: قحط سالی کے موقع پر عمر رضی اللہ عنہ نے چوری کی شرعی حد کے نفاذ پر پابندی لگا دی۔ آپ نے یہ اقدام شرعی حد کو موقوف ومعطل کرنے کی نیت سے نہیں کیا تھا جیسا کہ بعض لوگ لکھتے ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ چوری کے جرم میں شرعی حد کی تنفیذ کے لیے مطلوبہ شرائط موجود نہ تھیں، آپ کے پیش نظر یہ بات تھی کہ جو شخص قحط اور کھانا نہ ملنے کی حالت میں دوسرے کی ملکیت سے کچھ کھا پی لیتا ہے تو اس کی نیت چوری نہیں ہوتی اور وہ غیر ارادی طور پر یہ عمل انجام دیتا ہے اور اسی وجہ سے آپ نے ان غلاموں کا ہاتھ نہیں کاٹا جنہوں نے اونٹنی کو چوری کرکے ذبح کرلیا تھا، بلکہ آپ نے ان کے مالک حاطب کو حکم دیا کہ اونٹنی کی قیمت ادا کریں۔  آپ نے فرمایا: کھجور کے خوشے کی چوری اور قحط سالی کے موقع پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔  چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ فقہی مذاہب بھی سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فقہ واجتہاد سے کافی حد تک متاثر ہیں، اسی فاروقی اجتہاد کے پیش نظر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول ہے کہ قحط سالی اور بھوک کے موقع پرہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، یعنی محتاج اگر ایک لقمہ کھانے کے لیے مررہا ہو اور ایسی حالت میں اپنی خوراک کی مقدار میں کھانا چوری کرلے تو اس پر ہاتھ کاٹنے کی شرعی حد نہیں نافذ ہوگی، اس لیے کہ وہ اضطراری یعنی مجبوری ولاچاری کی حالت میں ہے۔ علامہ جوزجانی نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: قحط سالی کے ایام میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ میں نے اس مسئلہ میں امام احمد سے پوچھا کہ کیا آپ بھی اس کے قائل ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم اگر ایک لقمہ کھانے کی ضرورت نے اسے چوری پر مجبور کیا اس حالت میں کہ لوگ قحط و بھوک کی زندگی گزار رہے ہوں تو میں اس کا ہاتھ نہیں کاٹوں گا۔  یہ ہے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شرعی مقاصد پر گہری نظر اور بصیرت الٰہی ، آپ نے مسئلہ کی روح پر نگاہ ڈالی اور صرف ظاہر پر اکتفا نہ کیا، آپ نے اس بات پر غور کیا کہ چوری کا اصل سبب کیا ہے، اور جب آپ اس نتیجہ پر