کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 382
مالک بن اوس سے روایت ہے جن کا تعلق بنو نضیر سے ہے کہ ’’عام الرمادہ‘‘ میں سو گھرانوں پر مشتمل میرے خاندان کے لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ’’جبانہ‘‘ آئے، آپ تمام لوگوں کو جو آپ کے پاس آتے ان کو کھانا دیتے، اور جو نہیں آتا اس کے پاس اس کے گھر تک آٹا، کھجور، اور سالن وغیرہ بھیجتے، چنانچہ آپ ہر مہینے میری قوم کے لوگوں کے پاس بھی ان کی ضرورت کی چیزیں بھیجتے رہے۔ مریضوں کی بیمار پرسی اور وفات پاجانے والوں کے کفن دفن کا انتظام کرتے رہے، غذا کی اتنی شدید قلت تھی کہ لوگ تلچھٹ کھانے پر مجبور تھے، میں نے دیکھا اس موقع پر کئی لوگ مرگئے، آپ ان متوفیان کی نماز جنازہ خود پڑھاتے، آپ نے تقریباً دس متوفیان پر ایک ساتھ نمازِ جنازہ پڑھی، لیکن جب بارش کا نزول ہوا، اور لوگوں کو زندگی ملی تو آپ نے فرمایا: اب آپ لوگ صحرا کے جن جن علاقوں سے آئے تھے وہاں چلے جائیں، آپ نے کمزور و ناتواں لوگوں کو سواری کے ذریعہ سے ان کے گھروں تک پہنچایا۔  حزم بن ہشام اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ عام الرمادہ میں سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کا گزر ایک عورت کے پاس سے ہوا، وہ اپنے لیے عصید  تیار کررہی تھی، آپ نے اس سے کہا: اس طرح نہیں ملایا جاتا، اور یہ کہہ کر کرچھا اپنے ہاتھ میں لے لیا، اور ملا کر دکھایا کہ اس طرح دونوں کو آپس میں ملاؤ، آپ عورتوں سے کہتے تھے: جب تک پانی گرم نہ ہوجائے اس میں آٹا نہ ڈالو، اور جب ڈالو تو تھوڑا تھوڑا ڈالو، اور کرچھے سے اسے ہلاتے رہو، اس سے آٹا تہ بہ تہ نہیں جمے گا، سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی بعض بیویوں نے بیان کیا ہے کہ ’’عام الرمادہ‘‘ میں جب تک لوگوں کو قحط سے نجات اور زندگی کی تازگی نہ ملی تب تک لوگوں کی فکر میں آپ کسی بیوی کے قریب نہ گئے۔  انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ’’عام الرمادہ‘‘ میں سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کا پیٹ خالی ہونے اور بھوک کی شدت سے گڑگڑانے لگا، اس وقت آپ کی خوراک صرف تیل تھی، گھی کو اپنے لیے منع کرلیا تھا، آپ نے پیٹ کی گڑگڑاہٹ سن کر اپنی انگلیوں کو پیٹ میں دھنسایا اور کہا: جتنا چاہو گڑگڑاؤ، بس تیل ہی میری خوراک ہے اس وقت تک جب تک کہ سارے لوگوں کو غذا وخوراک فراہم نہ ہوجائے۔  ۳: صوبوں کے گورنروں سے تعاون کا مطالبہ: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے خوشحال ریاستوں کے گورنروں کو امدادی اسباب ووسائل ارسال کرنے کے لیے فوراً خط لکھا، آپ نے مصر پر مقرر کردہ اپنے گورنر عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ کو لکھا: