کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 375
اس تفصیل کے ساتھ ہمیں یاد ہونا چاہیے کہ جائے سکونت کے اختیار کرنے میں سیّدناعمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل رہی، انہوں نے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جہاں سے دارالخلافہ سے ربط و اتصال کرنا آسان تھا، مزید برآں شمال اور جنوب کے شہروں کے بالکل وسط میں اور دریائے نیل کے قریب یہ جگہ واقع تھی۔ لیبیا کا شہر ’’سرت‘‘: جب مصر کے مغرب کا ایک شہر ’’برقہ‘‘ اسلام کا قلعہ بن گیا تو عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ ’’طرابلس‘‘ کی طرف بڑھے اور پہلا حملہ مقام ’’سرت‘‘ پر کیا جو ’’برقہ‘‘ اور ’’طرابلس‘‘ کے درمیان واقع ہے۔ آپ اس پر قابض ہوگئے اور ۲۲ھ سے مجاہدین نے اس شہر کو مغرب پر پیش قدمی کے لیے بطور فوجی چھاؤنی استعمال کیا اور یہ اسلامی فوج کا قلعہ قرار پایا اور عقبہ بن نافع نے اس کو اپنا مرکز بنایا، جنہوں نے فزان، ودان، زویلہ اور سوڈان جیسے علاقوں میں اشاعت اسلام کے لیے اپنی پوری طاقت جھونک دی۔  مفتوحہ شہروں میں فوجی چھاؤنیاں: مفتوحہ ممالک کے تمام شہروں میں اور خاص طور سے شام کے شہروں میں سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے جن فوجی چھاؤنیوں کو قائم کیا انہیں آپ نے اجناد (لشکر) کا نام دیا، چنانچہ آپ نے ان شہروں میں فوجی چھاؤنیاں بنائیں، ان میں فوج کے رہنے کے لیے بیرکیں بنائیں گھوڑوں کے اصطبل بنائے جن میں بیک وقت کم از کم چار ہزار گھوڑے ساز وسامان اور پوری تیاری کے ساتھ ہر وقت تیار رہتے تھے۔  ایسی تیاری کا مقصد محض یہ تھا کہ اگر اچانک ضرورت پیش آجائے تو معمولی وقت میں چھتیس ہزار (۳۶۰۰۰) سے زیادہ شہسوار مجاہدین کا یہ دستہ صرف ملک شام سے میدانِ جنگ کے لیے فوراً نکل پڑے، ہر فوجی چھاؤنی میں آپ نے گھوڑوں کے لیے وسیع وعریض چراگاہ بھی تیار کرائی تھی، اور حکم الٰہی کی تنفیذ میں رمزی علامت کے طور پر ہر گھوڑے کی ران پر داغ کر یہ لکھ دیا جاتا: ((جَیْشُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔))یعنی یہ لشکر اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے (وقف) ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ (الانفال: ۶۰) ’’اور ان کے (مقابلے کے) لیے قوت سے اور گھوڑے باندھنے سے تیاری کرو، جتنی کر سکو، جس کے ساتھ تم اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو اور ان کے علاوہ کچھ دوسروں کو ڈراؤ گے، جنھیں تم نہیں