کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 373
اندیشہ بھی لگا رہے کیونکہ ناشکری سے بڑھ کر کوئی چیز نعمتوں کو چھیننے والی نہیں، جب کہ شکر گزاری گردش زمانہ میں امن وسلامتی، نعمت الٰہی میں اضافہ اور مال ودولت میں فراوانی کا سبب ہے، تمہیں حکم دینے اور منع کرنے سے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر یہ ذمہ داری واجب تھی۔‘‘  شہر فسطاط: اگر جناب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ شہر کوفہ کے اوّلین مؤسس وبانی شمار کیے جاتے ہیں تو عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بھی شہر فسطاط کے مؤسس اوّل ہیں۔ چنانچہ جب آپ اسکندریہ کی فتح سے فارغ ہوئے تو وہیں مستقل سکونت اختیار کرنا چاہی، لیکن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ کو خط لکھا کہ ایسی جگہ سکونت اختیار کرو کہ اگر مجھے تم تک آنے کی ضرورت پڑے تو ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی نہر یا سمندر نہ پڑے، لہٰذا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اسکندریہ سے فسطاط منتقل ہوگئے۔ سب سے پہلے آپ نے وہاں ایک مسجد تعمیر کی جو مسجد عمرو بن عاص کے نام سے معروف ہوئی، جب کہ ایک مسجد اسکندریہ میں بھی بنائی تھی، پھر وہاں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے بھی ایک گھر تعمیر کیا، غالباً ان کامقصد یہ رہا ہو کہ یہ دارالخلافہ بن جائے، لیکن عمر بن خطاب نے آپ کو خط لکھا کہ میرے لیے بنائے گئے مکان کو مسلمانوں کا بازار بنا دیا جائے۔  نیز آپ نے مسجد سے قریب ہی اپنے لیے دو گھر بنائے جیسا کہ ابن عبد الحکم اس کی تفصیل ہمارے سامنے اس طرح پیش کرتے ہیں: ’’جامع عمرو بن عاص کے دروازے کے پاس آج جو گھر ہے اسے سیّدناعمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنا گھر بنایا تھا، گھر اور مسجد کے درمیان سے ایک راستہ جاتا ہے، اور اسی گھر سے متصل ہی اپنا ایک دوسرا گھر بنایا تھا۔  غالب گمان یہ ہے کہ آپ نے اپنے لیے ایک ہی مکان بنایا تھا اور جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے لیے تیار کردہ عمارت کو منہدم کرنے کا حکم دے دیا تھا تو دوسرے مکان کو آپ بحیثیت ’’دارالامارۃ‘‘ استعمال کرتے تھے، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنے ہم نشین ممتاز صحابہ کی ایک جماعت کو اس کام کا مکلف کیا کہ وہ مختلف قبائل کے اعتبار سے ان کی رہائش گاہوں کے لیے احاطہ مقرر کریں، چنانچہ انہوں نے منظم طریقے سے ان کے مکانات کی جگہ اور سمت کو متعین کیا، اس وقت اس کو خطہ کہا جاتا تھا اور موجودہ دور میں محلہ اور کالونی کے مشابہ