کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 353
وضاحت کے ساتھ ساتھ اس کی سچائی کے بھی طالب تھے اور یہ بہت دقیق معیار تنقید ہے۔ اسی طرح آپ نے تمام قاضیوں کے پاس خط لکھ کر قسم دلائی کہ مسائل قضاء کو سمجھنے کے لیے تعبیر وبیان میں واضح الفاظ استعمال کریں۔ آپ نے کہا: ’’… جو کلام تمہارے دل میں کھٹکے اسے خوب خوب سمجھو۔‘‘ اور کسی ایک خاص چیز سے متعلق آپ نے خطبہ دینے کا ارادہ کیا تو کہا: ’’مجھے ایک بات بتائی گئی جو مجھے پسند آئی۔‘‘ بہرحال عمر رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں کلمہ، افہام وتفہیم کا ایک ذریعہ اور رہنمائی وتوضیح کا ایک آلہ تھا، نہ کہ کسی پر فرضی علمی رعب جمانے اور گمراہ کرنے کا راستہ۔ اسی لیے آپ نے ایسے کلام کو قطعاً ناپسند کیا جس میں بناوٹی بلاغت اور تکلّفات ومبالغہ آمیزی ہو۔  معانی کے حساب سے الفاظ ہوں: اس سلسلہ میں عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کلام میں مقابلہ کرنے سے بچو۔  امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کلام میں مقابلہ کا مطلب یہ ہے کہ مقصد ومراد سے زیادہ الفاظ استعمال نہ کرو، گویا عمر رضی اللہ عنہ بے جا وفضول کلمات استعمال کرنے سے دور رہنا چاہتے تھے، کیونکہ اس سے اصل مضمون کا مقصد فوت ہوجاتا ہے، اور اس میں انتشار پیدا ہوجاتا ہے۔ نیز ایسی صورت میں کلام میں تکرار لازم آتا ہے، مزید برآں اس سے مضمون کلام کی شان اور اس کی خوب صورتی چھن جاتی ہے۔  آپ نے فرمایا: کلام کا حقیقی رشتہ زبان کے رشتوں سے مربوط ہے، تو جہاں تک ہوسکے کم سے کم باتیں بولو۔  لفظ کا حسن وجمال مناسب مقام پر استعمال کرنے میں پنہاں ہے: عمر رضی اللہ عنہ کسی لفظ کو غیر مناسب مقام پر استعمال کرنے سے نفرت کرتے تھے، اس لیے کہ وہ معنی کو معیوب اور داغ دار بنا دیتا ہے، اور کلام کی رونق ورعنائی ختم ہوجاتی ہے، چنانچہ اسی سلسلے میں آپ نے سحیم عبد بنی حسحاس کے ایک شعر پر گرفت کی، وہ شعر تھا: عمیرۃ ودع أن تجہزت غادیًا کفی الشیب والإسلام للمرء ناہیا ’’سفید بال بڑھاپا اور اسلام انسان کو برائی سے روکنے کے لیے کافی ہے۔‘‘ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ شعر سنا تو کہا کہ اگر ’’اسلام‘‘ کو ’’شیب‘‘ سے پہلے ذکر کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔