کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 352
دیتے، بلکہ جس سے لحن ہوتا اس کی سرزنش کرتے۔  مانوس الفاظ کا استعمال اور بھاری بھرکم کلمات نیز تعقید سے کلام کا پاک ہونا: بیان کیا جاتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ زہیر کو دیگر شعراء پر ترجیح دیتے اور اس کے شعر کی تحسین کرتے تھے اور اس کی وجہ یہ بتاتے تھے کہ اس کے کلام میں پیچیدگی نہیں ہوتی، اور نامانوس الفاظ کی تلاش میں نہیں رہتا، نیز کسی آدمی کی بے جا تعریف نہیں کرتا۔  معاظلہ: یعنی کلام کو مشکل اور پیچیدہ بنانا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے میں خلط ملط ہو جائے اور کلام زائد اور مشکل و غریب بن جائے۔  آپ کے متعلق مذکورہ اثر ان شعری اصولوں کی وضاحت کرتا ہے جنہیں اسلام پسند کرتا ہے، یعنی اسلام ان اشعار کی قدر کرتا ہے جن کے معانی واضح ہوں، چھوٹے چھوٹے جملے ہوں اور مبالغہ آمیزی سے ہٹ کر صرف سچائی کے ترجمان ہوں، اس لیے کہ شعر کا موضوع کوئی ایک واقعہ ہوتا ہے لیکن مخاطب سارے لوگ ہوتے ہیں، پس ضروری ہے کہ ان میں فصاحت کے ساتھ وضاحت بھی ہو۔  قابل ذکر بات یہ ہے کہ علمائے بلاغت جنہوں نے بعد کے ادوار میں اس کے اصول وقواعد کو منظم ومدون کیا وہ سب لوگ مفردات، جملوں اور کلام کی فصاحت وبلاغت کے مباحث میں عمر رضی اللہ عنہ کے بتائے ہوئے اصولوں سے باہر نہ جاسکے، سوائے اس کے کہ کچھ لوگوں کو تصنیف کتاب کے دوران کسی خاص منہج، تبویب اور تنظیم کی ضرورت پیش آئی ہو۔  کلام کا واضح اور عام فہم ہونا: آپ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس خط لکھا کہ میں جو کچھ لکھنا چاہتا تھا اسے لکھنے سے اس لیے رک گیا کہ تمہاری تحریر کو میں پڑھ نہیں پایا، اور تمہارے دشمن کی پوزیشن نہ سمجھ سکا۔ اس لیے تم مسلمانوں کے ٹھکانوں اور تمہارے اور مدائن کے درمیان جو شہر ہے ان کا اپنی تحریر میں ایسا نقشہ کھینچو کہ گویا میں اس منظر کو دیکھ رہا ہوں، اور اپنے معاملہ کو مجھے بالکل واضح الفاظ میں بتاؤ۔  آپ کے خط کا آخری جملہ ’’اپنے معاملہ کو مجھے بالکل واضح الفاظ میں بتاؤ ‘‘ واضح کرتا ہے کہ آپ کلام کی وضاحت اور اس کے عام فہم ہونے کو ترجیح دیتے تھے، اسی طرح مذکورہ جملہ یہ تصور بھی دیتا ہے کہ آپ کلام میں