کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 342
کرتا تھا، اور یہ ان کے لیے شرافت کی چیز تھی، یہاں تک کہ ان کے اس فخریہ نام سے چڑ کھاتے ہوئے قیس بن عمرو بن کعب نجاشی نے اپنے ایک قصیدہ میں ان کی ہجو کی اور کہا: أولئک أخوال اللعین وأسرۃ الہجین ورہط الواہن المتذلل ’’وہ سب بدبختوں کے ماموں، دوغلوں کے خاندان والے اور کمزوروں وذلیلوں کی جماعت کے لوگ ہیں۔‘‘ وما سمی العجلان إلا لقولہ خذ العقب واحلب أیہا العبد واعجل ’’اس کا نام عجلان اس لیے پڑا کہ لوگ اس سے کہتے تھے کہ ابے اوغلام! پیالہ لے اور جلدی جلدی دودھ لا۔‘‘ مذکورہ اشعار کے بعض ناقلین کا خیال ہے کہ نجاشی کے ان اشعار کو سن کر بنو عجلان کے لوگ اسے پکڑ کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لائے اور آپ نے اسے قید میں ڈال دیا، اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ نے اسے کوڑے لگائے۔  بہرحال یہ واقعات شاہد ہیں کہ خلیفہ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہجو کے اشعار پر مواخذہ کرتے تھے، سچ تو یہ ہے کہ آپ صرف اسی پر بس نہ کرتے تھے بلکہ شعر کے دیگر اصناف پر بھی آپ سختی سے مواخذہ کرتے، مثلاً وہ اشعار جن میں مسلمانوں کی عزت وناموس سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہو تاکہ مسلمانوں میں آپس میں بغض و عداوت کی آگ لگ جائے، اسی طرح وہ اشعار جو مسلم خواتین پر تبصرہ کرتے ہوں، وغیرہ۔ د/ واضح الصمد نے اپنی کتاب میں اسے خوب تفصیل سے نقل کیا ہے۔  ۳: شعر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پختہ ارادہ کو نرمی اور شفقت میں بدل دیتا ہے: امیہ بن اسکر کنانی نام کا ایک آدمی تھا، وہ اپنی قوم کے بزرگوں میں سے تھا، اس کا ایک لڑکا تھا جس کا نام کلاب تھا، اس نے عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ ہجرت کی تھی، اور وہیں کافی دنوں تک مقیم رہا تھا، ایک دن اس کی ملاقات طلحہ بن عبید اللہ اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما سے ہوگئی، اس نے ان دونوں سے پوچھا کہ اسلام میں کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ اس کو بتایا گیا کہ جہاد، چنانچہ اس نے عمر رضی اللہ عنہ سے اہل فارس سے جنگ کے لیے جانے والی فوج میں جہاد کے لیے شرکت کی اجازت مانگی۔ یہ سن کر امیہ اٹھ کھڑا ہوا اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: