کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 324
ایک روایت میں ہے کہ جب عمر رضی اللہ عنہ نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر بنا کر بھیجنا چاہا تو انہوں نے انکار کردیا، لیکن عمر نے ان سے اصرار کیا، تو ابودرداء نے کہا: اگر آپ یہ پسند کریں کہ میں ان کے پاس اس لیے جاؤں تاکہ انہیں ان کے ربّ کی کتاب اور ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سکھاؤں اور ان کو نماز پڑھاؤں تو میں جانے کو تیار ہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ ان سے اس کام کے لیے راضی ہوگئے۔  ابودرداء رضی اللہ عنہ کی علم سے خصوصی توجہ اور شغف کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں میں آپ کا بہت اونچا مقام تھا، اور اسی لیے آپ کے اردگرد بہت سے طلبہ کا ہجوم رہتا تھا، کوئی آپ سے فرائض وواجبات کے بارے میں پوچھتا، کوئی حساب کے بارے میں، کوئی حدیث کے بارے میں، کوئی کسی مشکل وپیچیدہ مسئلہ کے بارے میں، اور کوئی شعر کے بارے میں پوچھتا۔ چنانچہ شام میں آپ کا علمی حلقہ بہت وسیع تھا، خاص طور پر تعلیم قرآن کا حلقہ تو بہت ہی بڑا تھا۔  اسی طرح وعظ و تقریر کے میدان میں بھی آپ کافی بااثر تھے۔ ایک دن شام میں آپ تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو سامعین کو خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’اے شام کے لوگو!تم کو کیا ہوگیا ہے جو تم جمع کرتے ہو اسے کھاتے نہیں ہو، اور مکانات بناتے ہو اور اس میں رہتے نہیں ، اور آرزوئیں ایسی رکھتے ہو جو پوری نہیں ہوتیں۔ سنو! عاد اور ثمود نے تاحد نگاہ انبار لگا دیا تھا، مال، اولاد اور لاتعداد نعمتیں تیار کی تھیں، کون ہے جو ان کی چھوڑی ہوئی جائدادوں کو مجھ سے صرف دو درہم میں خریدے گا۔‘‘  اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قسم کی تعلیمات، فاروقی سیاست پر بالکل صادق آتی ہیں، ایسی سیاست جس کا ہدف امت کو ہمہ وقت تیار رکھنا اور اس کی مجاہدانہ تحریک کو دوام بخشنا تھا۔  شامی درس گاہ کی ترقی میں معاذ بن جبل خزرجی رضی اللہ عنہ کا کارنامہ یہ تھا کہ آپ سے پہلے یمن والوں نے، پھر شام والوں نے استفادہ کیا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے مداح تھے، اپنے شاگردوں سے باتیں کرتے ہوئے کہتے تھے کہ معاذ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا للّٰهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (النحل: ۱۲۰) ’’ایک امت تھے، اللہ کے اطاعت گزار تھے، سیدھے راستہ پر تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔‘‘