کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 319
پاس اموالِ غنیمت اور قیدیوں کو دے کر بھیجا، وہ ’’تُسْتَر‘‘ کے حاکم ’’ہرمزان‘‘ کو لے کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔  سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بہت سارے صحابہ وتابعین نے، خاص طور سے بصرہ میں رہنے والے علماء نے ان سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ زہد وعبادت کے میدان میں اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں پر آپ نے بہت اچھا اثر چھوڑا، انس رضی اللہ عنہ اپنے شاگردوں کو تعلیم دینے کے حریص تھے، ان سے بہت محبت کرتے ، انہیں اپنے قریب رکھتے اور عزت سے نوازتے ہوئے عرض کرتے: آپ لوگ اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کتنے مشابہ ہو؟ اللہ کی قسم! تم میرے نزدیک میری اولاد سے زیادہ محبوب ہو، مگر یہ کہ فضل وتقویٰ میں وہ تمہاری طرح ہوجائیں۔ میں تمہارے لیے سحر گاہی میں دعائیں کرتا ہوں۔  انس رضی اللہ عنہ کی علم سے یہ محبت اور علماء سے دلچسپی تھی کہ جس کی وجہ سے آپ نے علماء کی ایسی نسل تیار کردی جس نے آپ سے حدیث کا علم سیکھا، دوسروں تک پہنچایا، اور بعد کی نسلوں کے لیے محفوظ کیا۔ انس رضی اللہ عنہ کے ثقہ شاگرد ۱۵۰ھ کے بعد تک زندہ رہے۔  ۴: کوفی درس گاہ: کوفہ میں بیعت رضوان کے شرکاء میں سے تین سو (۳۰۰) اور بدری صحابہ میں سے ستر (۷۰) لوگوں نے سکونت اختیار کی۔ کوفہ والوں کو مخاطب کرتے ہوئے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ اے باشندگان کوفہ! تم لوگ عرب کی جان اور اس کا دماغ ہو، میرا تیر ہو جس کے ذریعہ سے اپنے اوپر آنے والے حملوں کا دفاع کرتا ہوں، میں تمہارے پاس عبداللہ بن مسعود کو بھیج رہا ہوں۔ میں نے تمہارے لیے یہی پسند کیا ہے، اور تم لوگوں کو خود پر ترجیح دی ہے۔  اور ان کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے کہا: اما بعد! میں نے تمہارے پاس عمار کو امیر اور عبد اللہ بن مسعود کو معلم ووزیر بنا کر بھیجا ہے، وہ دونوں اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے شریف ترین لوگوں میں سے ہیں، ان دونوں کی بات سنو اور ان کی بات مانو، میں نے عبداللہ بن مسعود کو اپنی ذات پر تمہارے لیے ترجیح دی ہے۔  عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کوفہ پر بہت توجہ دی، وہاں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بھیجا، اور ان کو خط لکھا کہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے اس لیے لوگوں کو قریش کی لغت میں قرآن پڑھانا، ہذیل کی لغت میں نہیں۔  اور صحابہ کی ایک جماعت جو کوفہ کو روانہ ہورہی تھی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو رخصت کرتے ہوئے کہا: آپ لوگ