کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 31
’’اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اور ارشاد فرمایا: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا (الفتح:۲۹) ’’محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحم دل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدہ کر رہے ہیں۔‘‘ اور ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((خَیْرُ اُمَّتِیْ الْقَرْنُ الَّذِیْ بُعِثْتُ فِیْہِمْ۔))  ’’میری امت کا بہترین دور وہ صدی ہے جس میں میں بھیجا گیا ہوں۔‘‘ اور سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’جسے کسی طریقہ کی تلاش ہو وہ اپنے سے پہلے وفات پانے والوں (صحابہ) کے طریقہ پر چلے۔ کیونکہ زندہ فتنوں سے محفوظ نہیں ہے۔ وہ (جن کے طریقے پر چلنا چاہیے)محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں۔ اللہ کی قسم! وہ اس امت کے سب سے افضل افراد(لوگ) تھے، اس امت میں دل کے سب سے نیک، علم میں سب سے پختہ، تکلّفات سے سب سے زیادہ دور رہنے والے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی کی صحبت اور اپنے دین کی اقامت کے لیے منتخب کیا تھا، پس تم ان کی فضیلت کو پہچانو، ان کے نقش قدم پر چلو، ان کے دین اور اخلاق کو اپنے لیے حرز جان بناؤ، اس لیے کہ وہ سیدھے راستے پر تھے۔‘‘ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسلامی احکامات پر عمل کر دکھایا اور اس کو پوری روئے زمین پر عام کیا، ان کا دور سب سے بہترین دور تھا۔ انہوں نے امت محمدیہ کو قرآن کی تعلیم دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں اور آثار کو ان تک پہنچایا، گویا ان کی تاریخ وہ دفینہ ہے جس نے امت کے فکری، ثقافتی، علمی اور جہادی خزانوں، اسلامی فتوحات کی تحریکوں اور دیگر قوموں کے ساتھ ان کے معاملات اور رواداریوں کو محفوظ کر رکھا ہے۔ آپ اس عظیم المرتبت تاریخ کو تاریخ ساز جولانیوںمیں محسوس کریں گے کہ کوئی چیز ہے جو صحیح رخ اور ہدایت کی طرف ان کی زندگی کا سفر جاری رکھنے والوں میں ان کی معاون ہے اور اس دور کا مطالعہ کرتے ہوئے آپ محسوس کریں گے کہ اس کا