کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 308
سے کچھ ہی کم اکثر کی زندگی رہی۔ وہ صحابہ یہ تھے: عائشہ، ابوہریرہ، جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر، اور سعد بن ابی وقاص وغیرہم رضی اللہ عنہم ۔ مدینہ ہی میں کبار تابعین کا مدرسہ بھی وجود میں آیا۔ ان میں سات ایسے فقہاء تھے کہ تمام اسلامی شہروں میں کہیں ان کی کوئی نظیر ومثیل نہ تھی۔ شاعر نے ان ساتوں کو ایک ساتھ ذکر کردیا ہے: ألا کل من لا یقتدی بأئمۃ فقسمتہ ضیزی عن الحق خارجۃ ’’سن لو! جو شخص اپنے پیشواؤں کی پیروی نہیں کرتا، اس کی تقسیم بڑی ناانصافی پر مبنی ہے اور حق سے خارج ہے۔‘‘ فخذہم عبید اللّٰه عروۃ قاسم سعید أبوبکر سلیمان خارجۃ ’’جان لو وہ پیشوا حضرات عبید اللہ، عروہ، قاسم، سعید، ابوبکر، سلیمان اور خارجہ ہیں۔‘‘ ان کے بعد تابعین کا دوسر اطبقہ یعنی صغار تابعین کا دور آیا، یہ لوگ دوسری صدی کے نصف اول کے اواخر تک زندہ رہے، ان لوگوں میں ابن شہاب زہری، نافع بن اسلم، اور یحییٰ بن سعید انصاری ہیں۔ پھر امام مالک رحمہ اللہ کا دور آیا، آپ تبع تابعین میں سے ہیں۔ آپ چھوٹے اور بڑے تمام گزرے ہوئے تابعین کے علم کے سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ مدینہ والوں کے علم کی فوقیت کا اعتراف اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ دوسرے شہروں کے لوگ حجاز والوں کے علم کے محتاج تھے۔ حصول علم کے لیے انہوں نے مدینہ کا سفر کیا، جب کہ یہ تمام چیزیں کسی دوسرے شہر کے لیے نہیں کی گئیں، اسلامی شہروں کے علماء نے حصول علم کے لیے مدینہ کا سفر کیا اور اپنے علم وصلاحیت کو اپنے اساتذہ و علماء کے سامنے پیش کیا۔ اس طرح وہی اساتذہ ہی اس سلسلہ میں مرجع ہوا کرتے تھے۔ مدینہ کے علماء دیگر شہروں میں قاضی اور معلم بن کر گئے۔  اور آغاز ان لوگوں سے ہوا جنہیں شام اور عراق کی فتح کے بعد سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے وہاں اس لیے بھیج دیا تھا تاکہ لوگوں کو اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں سکھائیں، چنانچہ عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، عمار بن یاسر، عمران بن حصین، اور سلمان فارسی وغیرہم رضی اللہ عنہم عراق گئے، اور معاذ بن جبل، عبادہ بن صامت، ابودرداء، اور بلال بن رباح رضی اللہ عنہم جیسے لوگ شام گئے۔ اور آپ کے پاس عثمان، علی، عبدالرحمن بن عوف، ابی بن کعب، محمد بن مسلمہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم جیسے لوگ ہی رہ گئے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو اس وقت عراق میں رہنے والے صحابہ میں سب سے زیادہ علم والے تھے وہاں فتویٰ دیتے