کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 30
اور گورنروں کی تعیین کا نظام اور جب امت مسلمہ نے روم و فارس کی تہذیبوں کے ساتھ بودوباش اختیار کی تو اس زمانے میں جو اجتہادات پیش ہوئے اور اسلامی فتوحات کا مزاج کیا تھا؟ ان تمام باتوں کا جاننا ضروری ہے۔ دراصل اس کتاب کی تالیف کا میں نے ایک ذہنی خاکہ تیار کیا تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے وجود کا جامہ پہنانا چاہا اور پھر اس نے مجھے توفیق دی، میرے لیے معاملات کو آسان کر دیا اور مشکلات کو دور کر دیا اور میری مدد فرمائی کہ میرے لیے موضوع سے متعلق مراجع و مصادر میسر آئے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے جس نے میری ایسی مدد فرمائی۔ خلفائے راشدین کے دور کی تاریخ عبرت و موعظت سے لبریز ہے اور مراجع و مصادر کی کتابوں میں خواہ وہ تاریخی ہوں، فقہی ہوں، ادبی ہوں، یا حدیث، تفسیر، تراجم اور جرح و تعدیل کی کتابیں ہوں سب میں دروس و عبر کے موتی بکھیرے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنی طاقت و کوشش کے مطابق ان کتابوں کو کھنگالا ہے اور دوران تالیف مجھے کئی طرح کی ان تاریخی روایات سے سابقہ پڑا جن کی تہ تک پہنچنا اور اس کی حقیقت کا جاننا معروف و متداول تاریخی کتابوں میں بہرحال ایک مشکل چیز ہے۔ اسی لیے میںنے ان روایتوں کو اکٹھا کیا، پھر ترتیب دیا، اصل حوالہ جات سے موازنہ کیا اور پھر تحقیق و تنقیح کے میزان پر اسے تولا۔ اس طرح پہلی کتاب سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں منظر عام پر آئی جس کا نام میں نے ’’ابوبکر الصدیق شخصیتہ وعصرہ‘‘ رکھا ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے یہ کتاب عربی کتب خانوں اور عالمی کتابی میلوں و نمائشوں میں خوب پھیلی، بہت سے قارئین، مبلغین، علماء اور طلبہ وعوام کے ہاتھوں میں پہنچی، انہوں نے اپنے تاثرات سے مجھے نوازا اور اس طرح میری ہمت افزائی کی کہ میں خلفائے راشدین کے دور کا یہ تحقیقی سفر جاری رکھوں اور اس دور کی خصوصیات کو خوب وضاحت کے ساتھ امت مسلمہ کے سامنے اس انداز میں پیش کروں جو آج کے دور کے موافق ہو۔ خلفائے راشدین کے دور کی تاریخ درس و عبرت سے بھری پڑی ہے۔ اگر اس تاریخ کو ضعیف و موضوع روایات، مستشرقین اور ان کے دم چھلوں یعنی سیکولر ازم کے پرستاروں اور روافض وغیرہ کے نظریات سے ہٹ کر ہم اس کو بحسن و خوبی پیش کر لیں گے اور اس میں اہل سنت کے طریقہ عمل پر اعتماد کیا تو گویا اہل سنت کے نقطۂ نظر سے اس کو پیش کرنے میں ہمیں کامیابی مل جائے گی اور ان پاکباز شخصیتوں کی زندگی اور ان کے دور کی خوبیوں کو ہم اچھی طرح پہچان لیں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (التوبۃ:۱۰۰)