کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 298
’’کوئی عورت نہ گودنا گودے اور نہ کوئی عورت گودنا گد وائے۔‘‘ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بچہ ساقط کرنے کے جرم کے بارے میں صحابہ کرام سے مشورہ لیا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اپنا کوئی گواہ لاؤ۔ تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا تو میں وہاں موجود تھا۔  عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کا حکم پوچھا گیا جو حالت سفر میں جنبی ہوجائے اور پانی نہ پائے؟ آپ نے فرمایا: جب تک پانی نہ ملے نماز نہ پڑھے۔ عمار رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! کیا وہ واقعہ آپ کو یاد نہیں جب ہم دونوں ایک اونٹ پر سفر کررہے تھے اور ہم جنبی ہوگئے تھے، میں چوپائے کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا تھا، اور آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی، پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا تھا اور آپ نے فرمایا تھا: (( إِنْ کَانَ الصَّعِیْدُ لَکَافِیَکَ۔))  ’’بے شک پاک مٹی تجھے کافی تھی۔‘‘ (یعنی اس کے ساتھ تیمم کر لیتا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارا اور پھر ہاتھوں سے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں پر مسح کیا۔ (یہ سن کر) عمر رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عمار اللہ سے ڈرو، تو انہوں نے کہا: اگر آپ کہیں تو میں یہ حدیث نہ بیان کروں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں تمہیں اجازت دیتا ہوں۔ گویا ایک سنت جو خود عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آئی لیکن آپ بھول گئے اور اس کے خلاف فتویٰ دے دیا اور عمار رضی اللہ عنہ کی یاد دہانی کے باوجود آپ کو یاد نہ آیا تاہم آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کو جھوٹا نہیں کہا اور انہیں حدیث بیان کرنے کا حکم دے دیا۔  ۲: طلب علم پر رغبت دلانے والے فاروقی اقوال : سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’بے شک جب آدمی اپنے گھر سے نکلتا ہے حالانکہ اس کے سر پر تہامہ پہاڑ جیسے بھاری گناہ ہوتے ہیں، لیکن جب وہ علم حاصل کرتا ہے، پھر اللہ سے خوف کھاتا ہے اور توبہ کرتا ہے تو اپنے گھر اس حال میں واپس ہوتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا اے لوگو! علماء کی مجلسوں سے دور نہ رہو۔‘‘  آپ نے فرمایا: ’’آدمی اس وقت تک مکمل عالم نہیں ہوسکتا، جب تک کہ نہ اپنے سے بڑے علماء سے حسد