کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 297
فارغ ہوئے تو کہا: کیا میں نے عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ اشعری) کی آواز نہیں سنی؟ ان کو آنے کی اجازت دے دو۔ آپ کو بتایا گیا کہ وہ واپس چلے گئے۔ آپ نے ان کو بلوایا (اور واپس جانے کی وجہ پوچھی)، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم اسی بات کا حکم دئیے جاتے تھے۔ (یعنی اجازت نہ ملے تو واپس ہوجائیں)، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنی بات پر کوئی گواہ لاؤ۔ چنانچہ ابوموسیٰ انصار کی مجلسوں میں گئے اور ان سے پوچھا (کہ اور کسی نے اس حدیث کو سنا ہے) انہوں نے کہا: اس حدیث کی گواہی ہمارا سب سے چھوٹا آدمی دے گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ہاں ہم اس بات کا حکم دئیے جاتے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان میں نہیں جان سکا۔ کاروبار اور تجارت نے مجھے اس سے غافل کردیا۔  اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ میں انصار کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اتنے میں گھبرائے ہوئے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے تین بار اجازت مانگی لیکن مجھے اجازت نہ ملی تو میں واپس ہوگیا۔ انہوں نے بعد میں مجھ سے پوچھا کہ تم کیوں واپس چلے گئے؟ تو میں نے بتایا کہ تین مرتبہ میں نے اجازت مانگی تھی لیکن جب اجازت نہ ملی تو میں واپس ہوگیا، اس لیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ((إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُکُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ یُؤْذَنْ لَہٗ فَلْیَرْجِعْ۔)) ’’جب تم میں کوئی تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو چاہیے کہ لوٹ جائے۔‘‘ (میری یہ بات سن کر) عمر رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں کہ اس حدیث پر کوئی گواہ ضرور لاؤ۔ لہٰذا کیا آپ میں سے کسی نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ ابی بن کعب نے کہا: تمہارے ساتھ اس سلسلے میں گواہی دینے اس جماعت کا سب سے چھوٹا آدمی جائے گااور پھر میں ابوموسیٰ کے ساتھ کھڑا ہوا اور عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی ہے۔  علمی مذاکرہ اور نامعلوم مسائل میں استفسار: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت حاضر کی گئی جو گودنا گودتی تھی۔ آپ اٹھے اور کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں۔ گودنا گودنے کے بارے میں کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان سنا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں کھڑا ہوا اور کہا: ہاں، اے امیر المومنین! میں نے سنا ہے۔ آپ نے پوچھا: کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: (( لَا تَشِمْنَ وَلَا تَسْتَوْشِمْنَ۔))