کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 289
وہاں سے نکلے اور تیزی سے چلتے ہوئے آٹے کے گودام میں پہنچے، آپ نے ایک بوری آٹا نکالا اور تھیلے میں چربی، اور کہا: اسے میرے اوپر لاد دو، میں نے کہا: میں آپ کی طرف سے اسے اٹھاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تیری ماں نہ رہے۔ کیا قیامت کے دن بھی تم میری طرف سے میرا بوجھ اٹھاؤ گے۔ اسلم کا کہنا ہے کہ پھر میں نے بوری وغیرہ آپ کو اٹھوا دی۔ آپ اسے لے کر اس عورت کے پاس گئے میں بھی آپ کے ساتھ گیا، ہم بہت تیز چل رہے تھے، آپ نے عورت کے پاس بوری اتاری اور اس سے تھوڑا سا آٹا نکال کر عورت کو دیا اور کہا: تم اس پر نمک چھڑکو میں تمہارے لیے ’’حریرہ‘‘ بنا دیتا ہوں۔ پھر آپ ہنڈیا کے نیچے آگ پھونکنے لگے، میں نے دیکھا کہ دھواں آپ کی داڑھی کے درمیان سے نکل رہا تھا۔ اس طرح آپ نے سب بچوں کے لیے کھانا پکا دیا اور ہنڈیا آگ سے اتار دی اور کہا: مجھے کوئی پلیٹ وپیالہ وغیرہ دو، وہ عورت ایک بڑا پیالہ لے کر آئی، آپ نے حریرہ اس میں الٹ دیا اور عورت سے کہنے لگے، تم بچوں کو کھلاؤ اور میں اسے ٹھنڈا کرتا ہوں۔ آپ کھانا ٹھنڈا کرتے رہے یہاں تک کہ سب بچے شکم سیر ہوگئے اور جو کھانا بچا اسے عورت کے پاس چھوڑ کر چلنے کے لیے اٹھے، میں بھی آپ کے ساتھ اٹھا۔ عورت کہنے لگی: جزاک اللہ خیراً، اللہ تم کو بہتر بدلہ عطا فرمائے۔ تمہی امیر المومنین بننے کے حق دار تھے۔ آپ نے فرمایا: اچھی بات کہو، جب تم امیر المومنین کے پاس آؤ گی تو ان شاء اللہ وہاں مجھے پاؤ گی۔ پھر آپ وہاں سے ہٹ کر تھوڑا سا دور ہوگئے اور پھر ان کے سامنے جا کر بیٹھ گئے تو میں نے آپ سے پوچھا: کیا اور بھی کوئی کام ہے؟ آپ خاموش رہے اور مجھے جواب نہ دیا، یہاں تک کہ بچوں کو میں نے دیکھا کہ وہ لیٹ گئے اور سو گئے، پھر آپ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اٹھے، اور میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے اسلم! بھوک نے ان کو جگا رکھا تھااور رلایا تھا۔ تو میں نے چاہا کہ اس وقت تک یہاں سے واپس نہ جاؤں جب تک کہ انہیں اب جس حالت میں دیکھ رہا ہوں اس حالت میں دیکھ نہ لوں۔  حافظ ابراہیم نے اس واقعہ کی اس طرح منظر کشی کی ہے: ومن رآہ أمام القِدر منبطحاً والنار تأخذ منہ وہو یذکیہا ’’اور جس شخص نے آپ کو ہنڈیا کے آگے اس حال میں جھکا ہوا دیکھا ہوگا کہ آگ آپ کی طرف لپک رہی تھی اور آپ اسے پھونک رہے تھے۔‘‘ وقد تخلل فی اثناء لحیتہ منہا الدخان وفوہ غاب فی فیہا ’’آگ سے نکلتا ہوا وہ دھواں آپ کی داڑھی میں گھس رہا تھا اور آپ کا منہ اسی میں غائب ہوا جا رہا تھا۔‘‘