کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 284
کرنے کی فاروقی سیاست، جس کی کسی نے بھی مخالفت نہیں کی۔  رہے وہ فوجی جنہوں نے مدت کی پابندی نہ کی ان کے لیے عمر رضی اللہ عنہ نے غیر موجودگی کی مدت کی تحدید سے پہلے ہی ایک نظام وضع کردیا، چنانچہ جب آپ کو ان لوگوں کی تعداد معلوم ہوگئی جو لمبے عرصے تک اپنی بیویوں سے دور رہے اور غیر موجودگی کی حالت میں انہیں نان ونفقہ بھی نہ دیا تو آپ نے ایسے لوگوں کو نامزد کرکے فوجیوں کے کمانڈروں کے نام خط لکھا کہ ان لوگوں کو فوراً طلب کیا جائے اور انہیں یہ حکم سنا دیا جائے یا تو اپنی بیویوں کے پاس واپس لوٹیں یا ان کے مکمل اخراجات کا انتظام کرکے بھیجیں، یا انہیں طلاق دے دیں۔ ہاں اگر طلاق دیتے ہیں تو گزشتہ ایام کا نفقہ بھی دینا ہوگا۔  مجاہدین کی عزتوں کی حفاظت: رات میں گشت کرتے ہوئے رعایا کے احوال معلوم کرنے کا ایک نتیجہ یہ بھی سامنے آیا کہ مجاہدین کی عزتوں کی حفاظت کی گئی۔ آپ ایک رات مدینہ میں گشت لگا رہے تھے، آپ نے ایک شعر سنا جس سے تہمت وبدچلنی کی بو آرہی تھی، ایک عورت نصف رات میں شراب نوشی اور خوب صورت نوجوان کی قربت کی تمنا کرتی ہے، اس کی تمنا حقیقی رہی ہو یا بطور دل لگی، بہرحال اس نے جو شعر پڑھا اس سے عورت پر شک کی انگلی ضرور اٹھتی تھی۔ اس نے یہ شعر پڑھا تھا: ہل من سبیل إلی خمر فأشربہا ہل من سبیل الی نصر بن حجاج ’’کیا شراب کے لیے کوئی راستہ ہے کہ میں اسے نوش کروں اور کیا نصر بن حجاج تک کسی طرح پہنچنا ممکن ہے؟‘‘ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا تو صبح کے وقت نصر بن حجاج کو طلب کیا، وہ بہت ہی خوب صورت چہرے والا، اور بہترین بالوں والا نوجوان تھا، آپ نے اسے اپنا سر حلق کرانے کا حکم دیا۔ لیکن اس سے اس کی خوبصورتی دوبالا ہوگئی تو آپ نے اسے پگڑی باندھنے کا حکم دے دیا لیکن اب وہ بہت ہی خوب صورت لگنے لگا، تو آپ نے اس کی ذات کو عورتوں کے لیے باعث فتنہ ہونے کے خوف سے اور مجاہدین کی عزت کی حفاظت کے پیش نظر اسے بصرہ بھیج دیا۔