کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 270
’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ، ہم تجھ سے کسی رزق کا مطالبہ نہیں کرتے، ہم ہی تجھے رزق دیں گے اور اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔‘‘ ایک رات آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگوں کے معاملات کا خیال آگیا جس کی وجہ سے آپ کافی رنج وغم میں مبتلا ہوگئے۔ (بے چینی اس قدر تھی کہ) نہ نماز پڑھ سکے اور نہ سو ہی سکے، اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! نہ میں نماز پڑھ سکتا ہوں اور نہ سو ہی سکتا ہوں، میں سورت پڑھنا شروع کرتا ہوں تو بھول جاتا ہے کہ آیا شروع سورت پڑھ رہا ہوں یا آخر سورت۔ جب آپ سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہے اے امیر المومنین؟ تو آپ نے فرمایا: لوگوں کے بارے میں میری فکر مندی کی وجہ سے ۔  تہجد کی نماز کی کچھ رکعتیں اگر کبھی چھوٹ جاتیں تو دن میں انہیں پورا کرلیتے، آپ کا فرمان ہے: اگر رات کی تلاوت میں کسی سے اس کی متعینہ مقدار کی تلاوت یا تلاوت کا متعین حصہ (جیسے ربع، نصف، ثلث) چھوٹ گیا اور اس نے فجر سے ظہر کے درمیان اسے پڑھ کر پورا کرلیا تو گویا اس نے رات ہی میں اسے پڑھا۔  آپ تمنا کرتے تھے کہ کاش میں مؤذن ہوتا، آپ کا قول ہے کہ اگر بار خلافت سنبھالنے کے ساتھ ساتھ (پنج وقتہ) اذان دے سکتا تو مؤذن رہتا۔  آپ خوب دعائیں کرنے والے، اور اللہ سے گریہ وزاری کرنے والے تھے، آپ کی کچھ خاص دعائیں یہ تھیں: (( اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ عَمَلِیْ کُلَّہٗ صَالِحًا، وَاجْعَلْہُ لِوَجْہِکَ خَالِصًا، وَ لَا تَجْعَلْ لِأَحَدٍ فِیْہِ شَیْئًا۔))  ’’اے اللہ میرے تمام اعمال کو نیک بنا دے اور اس سے خالص تیری رضا مقصود ہو، اس میں تیری رضا کے علاوہ کسی کے لیے ریا مقصود نہ ہو۔‘‘ (( اَللّٰہُمَّ إِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِیْ شَقِیًّا فَامْحِمِیْ وَاکْتُبْنِیْ سَعِیْدًا، فَإِنَّکَ تَمْحُوْ مَا تَشَائُ وَتُثْبِتُ۔))  ’’اے اللہ! اگر تو نے میری قسمت میں بدبختی لکھ دی ہے تو اسے مجھ سے مٹا دے اور مجھے نیک بخت لکھ دے، اس لیے کہ تو جس کو چاہے مٹا دے اور جس کو چاہے باقی رکھے۔‘‘