کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 265
جنگی مہارت پر موقوف ہے اور اسے لوگوں میں عام کرتے رہیں۔ تو آپ نے انہیں یہ بتانا چاہا کہ اللہ ہی مددگار ہے اور جو چاہے خوب بہتر انجام دینے والا ہے۔ اسی نیت سے آپ نے خالد رضی اللہ عنہ کی معزولی کا فرمان جاری کیا اور اسلامی ملکوں میں توحید کی حفاظت وبقا کے لیے آپ نے جو عمومی فرمان جاری کیا اس میں اس بات کی خصوصی تاکید کردی، آپ نے فرمان میں لکھا: میں نے کسی ناراضی یا خیانت کی وجہ سے خالد کو معزول نہیں کیا ہے،بلکہ ان کی ذات سے لوگوں کے فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ تھا، اس لیے میں نے لوگوں کو بتانا چاہا کہ حقیقی کار ساز اللہ تعالیٰ ہے۔  حقیقت میں اللّٰہ پر بھروسا کرنے والے کسان ہوتے ہیں: معاویہ بن قرہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ملاقات چند یمنی لوگوں سے ہوئی، آپ نے ان سے پوچھا: آپ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم توکل علی اللہ والے لوگ ہیں۔ آپ نے فرمایا: تم کاہل لوگ ہو، (توکل علی اللہ والے نہیں۔) حقیقت میں توکل علی اللہ والے وہ ہیں جو زمین میں بیج ڈال دیتے ہیں اور پھر اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔  سن لو! ہم اقتدا اور اتباع کرتے ہیں، بدعت نہیں ایجاد کرتے: ایک مرتبہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر سے کہا: ’’سن لو! اصحاب رائے سنتوں کے دشمن ہیں، وہ لوگ احادیث نہ یاد کرسکے اور اپنی رائے سے فتویٰ دیا، خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ خبردار! ہم اقتداء اور اتباع کرتے ہیں بدعت نہیں ایجاد کرتے، جب تک ہم آثار واحادیث کو پکڑے رہیں گے گمراہ نہ ہوں گے۔‘‘ عمرو بن میمون اپنے باپ میمون سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: اے امیر المومنین! ہم لوگوں نے جب مدائن فتح کیا تو اس میں ہمیں ایک کتاب ملی، جس میں اچھی اچھی باتیں لکھی تھیں۔ آپ نے پوچھا: کیا قرآن کی باتیں تھیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے درّہ منگوایا اور اس سے اسے مارنے لگے، اور اس آیت کی تلاوت کرنے لگے: الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ (1) إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (2) نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ (3) (یوسف:۱۔۳) ’’الٓرٰ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تا کہ تم سمجھو۔ہم تجھے سب سے اچھا بیان سناتے ہیں، اس واسطے سے کہ ہم نے تیری طرف یہ قرآن وحی