کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 231
کے نام لکھے، ان کے لیے عطیات مقرر کیے۔ پانچ قبائل کے بعد بنو عدی (عمر رضی اللہ عنہ کا قبیلہ) کا نمبر آیا، الاقرب فالاقرب (جو زیادہ قریب تھا وہ پہلے پھر اس سے جو قریب تھا) ان سب کے حصے مقرر کیے اور حسنین (حسن وحسین رضی اللہ عنہما ) کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرب تھا اس کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کے لیے عطیات مقرر کیے۔  علامہ شبلی نعمانی اپنی کتاب ’’الفاروق‘‘ میں متعلقین جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ولحاظ کے سلسلہ میں لکھتے ہیں: ’’عمر رضی اللہ عنہ بڑی بڑی مہمات میں علی رضی اللہ عنہ کے مشورہ کے بغیر کام نہیں کرتے تھے اور علی رضی اللہ عنہ بھی نہایت دوستانہ اور مخلصانہ مشورہ دیتے تھے اور جب بیت المقدس گئے تو کاروبار خلافت ان ہی کے ہاتھ دے کر گئے، اتحاد ویگانگت کا مرتبہ یہ تھا کہ علی رضی اللہ عنہ نے امّ کلثوم رضی اللہ عنہا کو جو فاطمہ زہراء کے بطن سے تھیں عمر رضی اللہ عنہ کے عقد میں دے دیا۔‘‘  سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک فرزند کا نام عمر رکھا اور دوسرے کا نام ابوبکر اور تیسرے کا نام عثمان رکھا۔  عام طور پر لوگ اپنے فرزندوں کے نام انہی لوگوں کے نام پر رکھتے ہیں جن سے دلی تعلق ہوتا ہے اور جن کو مثالی انسان سمجھتے ہیں۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ ، عمر رضی اللہ عنہ کے پہلے مشیر تھے، عمر رضی اللہ عنہ آپ سے ہر چھوٹے بڑے معاملہ میں مشورہ لیتے تھے، جب مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا، مدائن فتح ہوا اور جب آپ نے نہاوند و اہل فارس اور اہل روم سے جنگ کا ارادہ کیا، نیز جب اسلامی ہجری تاریخ متعین کرنا ہوا تو ان تمام معاملات میں علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ لیا۔  سیّدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی پوری زندگی عمر رضی اللہ عنہ کے مشیر، خیر خواہ اور ہمدرد رہے، عمر رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ سے بہت محبت کرتے تھے، ان دونوں میں باہمی اعتماد اور الفت ومحبت قائم تھی، لیکن افسوس ہے کہ ان تمام حقائق کے باوجود لوگوں نے تاریخ کو بدلنے اور اسے مسخ کرنے کی کوشش کی اور اپنے بگڑے ہوئے مزاج ومتوہمانہ افکار کی بنیاد پر ایسی روایات کو عام کیا جو یہ تاثر دیتی ہیں کہ خلفائے راشدین میں ہر ایک دوسرے کی تاک میں رہتا تھا کہ جلد سے جلد مقابل کا کام تمام ہوجائے، نیز یہ کہ ان کے تمام معاملات پس پردہ انجام پاتے تھے۔  ڈاکٹر بوطی لکھتے ہیں: ’’خلافت فاروقی کا بغور مطالعہ کرنے والے کے سامنے جو بات سب سے زیادہ ابھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ کہ عمر اور علی رضی اللہ عنہما کے درمیان مثالی باہمی تعاون اخلاص کی بنیادوں پر قائم تھا۔ تمام مشکل