کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 228
تعجب خیز نمونہ عمل کے مقام پر فائز کرنے کا سبب بن سکتی ہے، ایسا حیران کن نمونہ جو آج سے قیامت تک کے لیے بطور یاد گار باقی رہے گا۔  اہل بیت کا احترام ومحبت : بلاشبہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک خاندان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت اونچا مقام ہے اور وہ بے حد عزت واحترام کے مستحق ہیں، اہل سنت والجماعت خاندان نبوت کے شرعی حقوق کا پورا لحاظ رکھتے ہیں، ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی طرف سے دفاع کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ’’غدیر خم‘‘ کے موقع پر زبان نبوی سے نکلی ہوئی اس وصیت پر مکمل عمل کرتے ہیں: (( أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَہْلِ بَیْتِیْ۔))  ’’میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تم کو اللہ کا واسطہ یاد دلاتا ہوں۔‘‘ پس وہ لوگ اس وصیت پر عمل کرنے کی وجہ سے سب سے زیادہ سعادت مند ہیں ۔ اہل سنت والجماعت اس باب میں روافض کے طرز عمل سے بے زاری کا اعلان کرتے ہیں، جنہوں نے بعض اہل بیت کے بارے میں خوب مبالغہ آرائی کی ہے اور خارجیوں کے طرز فکر کی سخت مخالفت کرتے ہیں جو صحابہ سے بغض رکھتے ہیں اور انہیں تکلیف دیتے ہیں۔ بہرحال اہل سنت والجماعت اہل بیت کی محبت کے وجوب اور ان کی ایذا رسانی یا ان کے حق میں کسی قسم کی گستاخی کی حرمت پر متفق ہیں، اس جرم کا ارتکاب قولاً ہو یا عملاً۔  عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے کردار وعمل کی روشنی میں اہل بیت سے متعلق اپنی عقیدت و محبت کا اظہار ہمارے سامنے کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں: ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی خبر گیری: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ ازواجِ مطہرات کے حالات معلوم کیا کرتے تھے اور انہیں عطیات سے نوازتے رہتے تھے، کوئی پھل یا میوہ کھاتے تو اس میں ازواج مطہرات  کا حصہ ضرور لگاتے اور سب سے آخر میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجتے تاکہ اگر کمی ہو تو انہی کے حق میں ہو۔  آپ ازواج مطہرات کے پاس عطیات بھی بھیجتے تھے، اسی طرح کا ایک واقعہ امّ المومنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ پیش آیا، عمر رضی اللہ عنہ نے امّ المومنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا حصہ نکال کر ان کے پاس عطیہ بھیجا،