کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 213
 اور یہ کہ آخرت کی زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، آخرت ہمیشہ کا ٹھکانا ہے، جیسے کہ قوم فرعون کے مومن فرد نے کہا تھا: يَا قَوْمِ إِنَّمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَإِنَّ الْآخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ (39) مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَى إِلَّا مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ (40) (غافر: ۳۹،۴۰)  ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو معمولی فائدے کے سوا کچھ نہیں اوریقینا آخرت، وہی رہنے کا گھر ہے ۔جس نے کوئی برائی کی تو اسے ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا اور جس نے کوئی نیک عمل کیا، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اس میں بے حساب رزق دیے جائیں گے۔‘‘ یہ حقائق عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دل میں رچ بس گئے تھے جس کی وجہ سے آپ نے دنیا اور اس کی چمک دمک کو نظر انداز کردیا تھا اور اس سے بے نیاز ہو کر زندگی گزارنے لگے تھے۔ ذیل میں زہد سے متعلق آپ کے چند واقعات کا تذکرہ کیا جاتا ہے: ابوالاشہب  کا بیان ہے کہ ایک گھور (کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ) کے پاس سے عمر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا۔ آپ وہاں تھوڑی دیر ٹھہر گئے، آپ کے ساتھیوں کو یہ عمل ناگوار گزرا، آپ نے ان سے فرمایا: یہ تمہاری دنیا ہے جس پر تم فدا ہو اور اس پر مرمٹ رہے ہو۔  سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم ہمیں دنیا کی لذتوں کی پروا نہیں ہے، ہم یہ نہیں چاہتے کہ بکری کے چھوٹے بچے کو بھوننے کا حکم دیں، پھر وہ ہمارے کھانے کے لیے تیار کیا جائے اور بہترین روٹی تیار کرنے کا حکم دیں اور ہمارے لیے روٹیاں پکائی جائیں اور کشمش کا شربت بنانے کا حکم دیںکہ ہمارے لیے تیار کیا جائے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں کو دستر خوان پر رکھا جائے تو چکور کی آنکھوں کی طرح تمام چیزیں اس پر چمک رہی ہوں، پھر اس کو کھائیں اور پییں، بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اپنی نیکیوں کو بچا کر رکھیں، اس لیے کہ ہم نے اللہ کا فرمان سنا ہے: أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا (الاحقاف:۲۰) ’’تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کردیں۔‘‘ ابوعمران جونی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم کھانے والوں سے زیادہ کھانے کی لذت کو جانتے ہیں، لیکن ہم اسے اس دن کے لیے چھوڑ رہے ہیں جس کا ذکر قرآن مجید میں یوں ہے: