کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 212
کر آپ نے بخوبی سمجھ لیا تھا کہ دنیا ابتلاء وآزمائش کا گھر اور آخرت کی کھیتی ہے۔ چنانچہ آپ نے دنیا داری، اس کے حسن وزیبائش اور چمک دمک سے خود کو دور رکھا تھا۔ ظاہر وباطن ہر اعتبار سے اپنے ربّ کے سامنے خود کو جھکا دیا تھا اور ایسے حقائق کی جڑیں آپ کے دل میں پیوست ہوچکی تھیں جو اس دنیا سے زہد وبے نیازی پر آپ کی معاون ومددگار ہوتی تھیں۔ وہ حقائق یہ ہیں:  اس بات پر کامل یقین تھا کہ ہم اس دنیا میں ایک اجنبی یا مسافر کے مشابہ ہیں، جیسا کہ ارشادِ نبوی ہے: (( کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ۔))  ’’تم دنیا میں اس طرح زندگی گزارو گویا کہ اجنبی ہو یا مسافر۔‘‘  اللہ ربّ العزت کے نزدیک اس دنیا کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے۔ بس اتنی ہی قابل قدر ہے کہ جتنے میں اللہ کی اطاعت وفرماں برداری کرلی جائے۔ فرمانِ نبوی ہے: (( لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَا سَقَی کَافِرًا مِنْہَا شَرْبَۃَ مَائٍ۔)) ’’اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر وقیمت مکھی کے پر کے بھی برابر ہوتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ بھی پانی نہ پلاتا۔‘‘ اور فرمایا: (( إِنَّ الدُّنْیَا مَلْعُوْنَۃٌ مَلْعُوْنٌ مَا فِیْہَا إِلَّا ذِکْرُ اللّٰہِ وَمَا وَالَاہُ وَعَالِمٌ أَوْمُتَعَلِّمٌ۔)) ’’دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے، مگر اللہ کا ذکر اور جو اس کی رضا کے لیے کام کیے ہوں، یا عالم یا متعلّم۔‘‘  دنیا کی زندگی بہت جلد ختم ہونے کے قریب ہے، ارشادِ نبوی ہے: (( بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔)) قَالَ: وَضَمَّ السَّبَابَۃَ وَالْوُسْطٰی۔ بعثت أنا والساعۃ کہاتین بالسبابۃ والوسطٰی ۔ ))  ’’میری بعثت اور قیامت کے درمیان ان دونوں کی طرح فاصلہ ہے ۔‘‘ راوی کہتا ہے: پھر آپ نے سبابہ (شہادت کی انگلی) اور درمیانی انگلی اٹھائی۔