کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 197
القیت کاسبہم فی قعر مظلمۃ فاغفر علیک سلام اللہ یا عمر ’’ان کے ذمہ دار کو آپ نے تاریکی کے عمیق گڑھے میں ڈال دیا، اے عمر! آپ پر اللہ کی سلامتی نازل ہو، مجھے بخش دیجیے۔‘‘ أنت الأمیر الذی من بعد صاحبہ القی الیک مقالید النہی البشر ’’آپ ایسے امیر ہیں جسے اپنے (خلیفہ اوّل) کے بعد لوگوں نے دانائی کی کنجیاں سونپ دی ہیں۔‘‘ یہ سن کر سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کا دل نرم پڑگیا اور اسے رہائی دے دی اور یہ وعدہ لیا کہ کسی مسلمان کی ہجو نہ کرو گے۔  روایات میں یہ بھی وارد ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حطیئہ کو تین ہزار درہم دے کر مسلمانوں کی ہجو میں کہے گئے اشعار اس سے خرید لیے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگیا: وأخذت أطراف الکلام فلم تدع شتمًا یضر ولا مدیحًا ینفع ’’آپ نے میرے شاعرانہ کلام کی نوک پلک تک کو خرید لیا، آپ نے تکلیف پہنچانے والی کوئی گالی نہیں چھوڑی اور نہ کوئی مدح سرائی کہ جو کسی کو نفع پہنچائے۔‘‘ ومنعتی عرض البخیل فلم یخف شتمی واصبح آمناً لا یفزع ’’آپ نے مجھے (اس کلام کو) بخیل پر پیش کرنے سے روک دیا، پس وہ میری ہجو سے نہیں ڈرتا، وہ بہت امن سے ہے، کچھ بھی نہیں گھبراتا۔‘‘ ۵۔ اہل کتاب (یہودی و عیسائی) عورتوں سے شادی کے بارے میں سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی رائے: جب سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی عورت سے شادی کی ہے تو ان کو خط لکھا: ’’اس کا راستہ صاف کردو (طلاق دے دو۔)‘‘ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواباً تحریر کیا: ’’کیا آپ کے خیال میں وہ حرام ہے کہ میں اسے طلاق دے دوں؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میرا یہ خیال نہیں ہے کہ وہ حرام ہے بلکہ مجھے خوف ہے کہ تم ان میں سے فاحشہ وبدکار عورتوں سے شادی کرنے کے عادی نہ ہوجاؤ۔‘‘ اور دوسری روایت میں ہے: ’’مجھے