کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 195
یعنی یزید بن حصین ہی کی بیٹی کیوں نہ ہو، جس نے اس سے زیادہ متعین کیا تو جو زائد ہوگا، وہ بیت المال کے حوالے کر دیا جائے گا۔ ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا نے اعتراض کرتے ہوئے کہا: آپ کو یہ حق نہیں پہنچتا۔ آپ نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: اس لیے کہ فرمانِ الٰہی ہے: وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا (20) (النساء:۲۰) ’’اور ان (بیویوں) میں سے کسی کو تم نے خزانہ کا خزانہ دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو، کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناہ ہوتے ہوئے بھی لے لو گے، تم اسے کیسے لے لو گے۔‘‘ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورت نے صحیح کہا اور مرد نے غلطی کی۔  اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے کہا: اے اللہ مجھے بخش دے، ہر انسان مجھ عمر سے زیادہ سمجھ دار ہے۔ پھر آپ لوٹ گئے اور منبر پر چڑھے اور کہا: اے لوگو! میں نے عورتوں کا مہر چار سو (۴۰۰) درہم سے زیادہ مقرر کرنے سے تم کو منع کیا تھا، لیکن جو اپنے مال سے خوشی خوشی جتنا بھی دینا چاہے دے سکتا ہے۔  شریعت اسلامی میں آزادی رائے کا مطلب مطلق العنانی نہیں ہے کہ جس طرح جو چاہے کہے، بلکہ یہ آزادی اس بات کے ساتھ مقید ومشروط ہے کہ اس سے دوسروں کی ایذا رسانی مقصود نہ ہو، وہ ایذا رسانی عام ہو یا خاص ہو۔ آزادی رائے کے بارے میں جن چیزوں پر آپ نے پابندی لگائی اور ان کی ہلاکت خیزیوں سے ہمیشہ آگاہ کرتے رہے۔ ان میں سے دو بہت اہم ہیں: ۱: مذہب سے گمراہی اور متشابہات کی طرف دعوت عمل دینے والی آراء و تجاویز: اس موضوع سے متعلق اس نبطی کا واقعہ قابل ذکر ہے جس نے ملک شام  میں تقدیر کا انکار کیا تھا۔ اس نے شام میں دوران خطبہ میں سیّدناعمر رضی اللہ عنہ پر اس وقت اعتراض کیا تھا جب آپ نے کہا: ((وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَـلَا ہَادِیَ لَہٗ۔))یعنی جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اس نے تقدیر کا انکار کرتے ہوئے کہا: اللہ کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے انکار تقدیر پر مشتمل دوبارہ ایسی بات کہنے پر اسے قتل کی دھمکی دی۔  سائب بن یزید کا بیان ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: اے امیر المومنین! وَالذَّارِيَاتِ