کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 193
اس واقعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انفرادی ملکیت کی آزادی مصلحت عامہ سے مربوط ہے۔ لہٰذا اگر مالک اس کو کام میں لارہا ہے، اس کی نگہداشت کماحقہ کر رہا ہے تو کسی کو بھی اس کی ملکیت سلب کرنے کا حق نہیں ہے، ورنہ حاکم کو حق ہے کہ وہ اس کو بیکار پڑے رہنے سے بچانے کے لیے اس میں تصرف کرے تاکہ وہ مسلمانوں اور رعایا کے لیے کارآمد اور مفید ثابت ہو۔  ۴۔ آزادی رائے: اسلام ہر فرد کو اظہار رائے کی آزادی کا مکمل حق دیتا ہے۔ خلفائے راشدین کے دور میں یہ آزادی محفوظ تھی، عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو موقع دیتے تھے کہ اپنی بہترین آراء بیان کریں اور ما فی الضمیر کے اظہار سے انہیں روکتے نہ تھے۔  جن مسائل میں کوئی شرعی نص نہ ہوتی ان میں ا جتہاد کا موقع دیتے۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ کی ملاقات ایک آدمی سے ہوئی، اس سے آپ نے پوچھا: تمہارے معاملے کا کیا بنا؟ اس نے کہا: علی اور زید رضی اللہ عنہما نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اگر میں ہوتا تو اس طرح فیصلہ کرتا۔ اس نے کہا: خلافت آپ کی ہے، رکاوٹ کس بات کی ہے؟ آپ نے فرمایا: اگر میں تمہیں کتابِ الٰہی اور سنت نبوی پر قائل کرتا تو اب تک کر گزرتا، لیکن اس سلسلہ میں میرے پاس کتاب وسنت کی نص نہیں ہے، صرف میری رائے ہے اور سب آراء برابر ہیں خواہ میری رائے ہو یا علی و زید کی اس لیے میں ایسا نہیں کرسکتا۔ اس طرح عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اجتہادی مسائل میں اظہار رائے کی آزادی دے رکھی تھی اور انہیں کبھی اجتہاد سے نہیں روکا، نہ کسی مخصوص رائے کے اظہار پر مجبور کیا۔  عہد فاروقی اور خلفائے راشدین کے دور میں حاکم وقت پر تنقید اور اسے نصیحت کرنے کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: اے لوگو! تم میں کوئی بھی شخص اگر مجھ میں ٹیڑھا پن دیکھے تو اسے سیدھا کردے۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اگر ہم آپ میں ٹیڑھا پن دیکھیں گے تو اسے اپنی تلواروں سے سیدھا کریں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اس امت میں ایسا بھی آدمی پیدا کیا ہے جو عمر کے ٹیڑھے پن کو اپنی تلوار سے سیدھا کرے گا۔  اور خطبہ خلافت میں آپ نے فرمایا تھا: ’’مجھے بھلائی کا حکم دے کر، برائی سے روک کر اور مجھے نصیحت کرکے میری مدد کرو۔‘‘