کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 172
ہاں، ہم اللہ کی ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف جا رہے ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارا اونٹ کسی ایسی وادی میں اتر جائے جس کے دو کنارے ہوں، ایک کنارہ سرسبز ہو اور دوسرا کنارہ خشک، اگر تم اسے سرسبز حصہ میں چراتے ہو تو کیا اسے اللہ کی تقدیر سے نہیں چرایا؟ اور اگر خشک جگہ میں چراتے ہو تو کیا اللہ کی تقدیر سے نہیں چرایا؟ عبدالرحمن بن عوف نے ان کی یہ آوازیں سن لیں، ان کے پاس آئے اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: (( إِذَا سَمِعْتُمْ بِہٖ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمپوْا عَلَیْہِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِہَا فَلَا تَخْرُجُوْا فِرَارًا مِنْہُ۔))  ’’جب تم سنو کہ یہ (وباء) کسی علاقے میں پھیلی ہوئی ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ بھاگو۔‘‘ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں شورائیت کے مختلف میدان تھے، مثلاً اداری اور سیاسی معاملات، گورنروں وحاکموں کی تقرری، نیز فوجی معاملات میں مشورہ لینا، اسی طرح خالص شرعی مسائل کے لیے مشورہ لینا اور بہت سے شرعی احکام میں حلال وحرام کی معرفت اور عدلیہ کے مسائل کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنا۔  شورائیت کے مجالات، اس کی تنفیذات، اور قوی ترین دلائل کی تلاش میں عمر رضی اللہ عنہ کی کوشش جیسے موضوعات پر اس بحث میں موقع بہ موقع ان شاء اللہ گفتگو کی جائے گی۔ ہم اس مقام پر صرف اس بات پر زور دینا چاہتے ہیں کہ خلافت راشدہ کی بنیاد کتاب اللہ وسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی شورائیت پر قائم تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کوئی رائے من مانی نہ تھی اور نہ آپ نے کسی بدعت کو ایجاد کیا تھا۔ بلکہ وہ سب ربانی منہج کے اصولوں میں سے کسی نہ کسی اصول پر قائم ہوتا تھا۔ عدل ومساوات: اسلامی حکومت کے اہم مقاصد میں سے یہ چیز ہے کہ اسے اسلامی نظام کی بنیادوں پر قائم کرنے کی پوری کوشش کی جائے تاکہ ایک مسلم معاشرہ وجود میں آسکے۔ انہی اہم بنیادوں میں سے عدل ومساوات بھی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے امت کے سامنے اپنے پہلے خطاب میں ان اصول و قواعد کو بیان کیا ہے۔ آپ نے منصب خلافت سنبھالتے وقت امت کے سامنے جو خطبہ دیا تھا اس کا ایک ایک حرف آپ کے عدل ومساوات کی منہ بولتی تصویر ہے۔ بلاشبہ عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک عدل سے مراد اسلام کا وہ عادلانہ نظام ہے جو کسی اسلامی سماج اور اسلامی حکومت کے قائم کرنے میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسا معاشرہ جس کی قیادت ظالم ہاتھوں میں ہو اور وہ عدل سے نا آشنا ہو اسے اسلامی معاشرہ نہیں کہا جاسکتا۔ عوام کے درمیان انفرادی طور پر یا جماعتی اور ملکی