کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 169
کو فرمان جاری کرتے تھے کہ ’’اپنے فوجی معاملات میں عمرو بن معدی کرب اور طلیحہ اسدی سے مشورہ لیا کرو۔‘‘ آپ کا فرمان تھا: ’’اپنی جنگی مہمات میں طلیحہ اسدی اور عمرو بن معدی کرب سے مدد لیا کرو اور ان سے مشورہ کیا کرو، اور ان دونوں کو کسی چیز کا ذمہ دار نہ بناؤ، کیونکہ ہر کاری گر اپنی کاری گری کے بارے میں زیادہ جانتا ہے۔‘‘  سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نام یہ فرمان بھیجا: ’’جو شخص تمہارا پہلا مشیر ہو وہ عرب نژاد ہو اور تم اس کی خیر خواہی وسچائی سے مطمئن رہو، کیونکہ جھوٹے کی خبر تمہارے لیے کچھ مفید نہیں اگرچہ اپنی بعض خبروں میں وہ سچا ہی کیوں نہ ہو اور دھوکا باز تمہارے خلاف ایک جاسوس ہے وہ تمہارے خلاف جاسوسی ہی کرے گا۔‘‘  عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کو جب بصرہ کی طرف بھیجا تو آپ نے ان سے فرمایا: ’’میں نے علاء بن الحضرمی کو لکھا ہے کہ عرفجہ بن ہرشمہ کے ذریعہ سے تمہیں قوت پہنچائیں، وہ دشمن کو چکما دینے والے اور اسے زیر کرنے والے ہیں، لہٰذا جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان سے مشورہ لو اور اپنے پاس رکھو۔‘‘  شورائیت سے متعلق عمر رضی اللہ عنہ کا طرز عمل نہایت عمدہ تھا۔ سب سے پہلے آپ عام مسلمانوں سے مشورہ لیتے اور ان کی باتیں سنتے تھے، پھر بزرگ اور صاحب حل وعقد اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اکٹھا کرتے، معاملہ ان کے سامنے رکھتے اور ان سے پوچھتے کہ درپیش مسئلہ میں کسی بہتر رائے کی طرف وہ لوگ آپ کی رہنمائی کریں، پھر جس بات پر وہ متفق ہوجاتے آپ اسے نافذ کردیتے۔ آپ کا یہ عمل ان دستوری نظاموں سے ملتا جلتا ہے جو بہت سے جمہوری ملکوں میں رائج ہے۔ دستور کے مطابق ان ممالک میں پہلے معاملہ ممبران پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہوتا ہے، پھر جب اکثریت کی رائے سے کوئی قرار داد پاس ہوجاتی ہے تو اسے دوسری مجلس پر پیش کیا جاتا ہے، اس مجلس کو بعض ممالک میں مجلس الشیوخ اور بعض ممالک میں (Council of Lord) کہا جاتا ہے۔ پھر جب یہ مجلس بھی اس معاملہ میں اپنی رپورٹ پیش کردیتی ہے تو حاکم وقت اسے نافذ کرتا ہے۔ البتہ عمر رضی اللہ عنہ اور ان ممالک کے عمل کے درمیان صرف اتنا فرق ہے کہ آپ کا طرزِ عمل اجتہاد پر مبنی تھا وہ کسی مستقل نظام اور دستور