کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 146
بسم اللہ الرحمن الرحیم ابوبکر بن ابوقحافہ کی طرف سے یہ عہد نامہ ہے جسے اپنی دنیوی زندگی کے آخری وقت میں دنیا چھوڑتے ہوئے اور اخروی زندگی کے آغاز سے اس میں داخل ہوتے ہوئے لکھا ہے، جس وقت کافر ایمان لاتا ہے، فاجر یقین اور جھوٹا تصدیق کرنے لگتا ہے، میں نے اللہ، اس کے رسول، اس کے دین، اپنی ذات اور تمہارے لیے خیر خواہی سے متعلق فروگزاشت نہیں کی ہے۔ پس اگر انہوں نے عدل وانصاف سے کام لیا تو یہی میرا گمان اور میرا علم ہے اور اگر اس سے ہٹ گئے تو ہر انسان کو اس کی کمائی کا بدلہ ملے گا۔ میں نے خیر کی نیت کی ہے غیب کو نہیں جانتا۔ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ (الشعراء: ۲۲۷) ’’اور عنقریب وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، جان لیں گے کہ وہ لوٹنے کی کون سی جگہ لوٹ کر جائیں گے۔‘‘ خلافت کے لیے عمر رضی اللہ عنہ کی نامزدگی امت کے لیے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آخری خیر خواہی تھی۔ چونکہ آپ نے رنگین دنیا کی آمد اور اپنی قوم کی قدیم فاقہ کشی کو پہچان لیا تھا اس لیے آپ کو خوف تھا کہ جب وہ اسے دیکھیں تو مبادا اس کی رنگینیوں کے تابع نہ ہوجائیں، پھر وہ ان پر ظلم کرنے لگے کیونکہ یہی وہ چیز تھی جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں خوف دلایا تھا۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: