کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 133
(۳) سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ خلافت صدیقی میں سقیفہ بنی ساعدہ میں آپ کا مؤقف اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد انصار سقیفۂ بنی ساعدہ میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوئے اور کہا: ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم میں سے ہوگا۔ پھر ان کے پاس ابوبکر، عمر بن خطاب اور ابوعبیدہ بن جراحرضی اللہ عنہم گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے بولنا شروع کیا لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو خاموش کردیا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: اللہ کی قسم میں نے اس موقع پر کچھ ایسی باتیں کہنا چاہتا تھا جو مجھے بہت پسند تھیں اور مجھے اندیشہ تھا کہ کہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کو نہ جانتے ہوں۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تقریر کی اور خوب فصیح وبلیغ تقریر کی، تقریر میں کہا: ہم امیر ہوں گے اور تم وزیر ہوگے۔ خباب بن منذر نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ایسا ہرگز نہ ہونے دیں گے، ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک تم میں سے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، لیکن ہم امیر ہوں گے اور تم وزیر ہو گے۔ وہ (مہاجرین) عرب کے بہترین گھرانے کے لوگ ہیں، حسب ونسب میں اعلیٰ درجہ کے عربی ہیں، تم عمر یا ابوعبیدہ سے بیعت کرلو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلکہ ہم آپ سے بیعت کریں گے۔ آپ ہم سے بہتر، ہمارے بڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ہم میں سب سے زیادہ محبوب رہے ہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ (ابوبکر) کا ہاتھ پکڑا اور بیعت کی اور دوسرے لوگوں نے بھی آپ سے بیعت کی۔  (ہم دعا گو ہیں کہ) اللہ تعالیٰ عمر رضی اللہ عنہ سے خوش ہو اور دوسروں کو بھی ان سے خوش کرے، کیونکہ جب سقیفۂ بنی ساعدہ میں ہنگامہ ہوگیا، آپس میں بحث شروع ہوگئی تو عمر رضی اللہ عنہ اختلاف سے ڈر گئے اور سب سے خطرناک بات جس سے آپ خائف تھے کہ کہیں کسی انصاری کے ہاتھ پر بیعت شروع نہ ہوجائے اور پھر ایک بڑا فتنہ رونما ہوجائے۔ کیونکہ کسی انصاری کے لیے بیعت کا آغاز ہوجانے کے بعد پھر دوسرے کے ہاتھ پر بیعت کرنا آسان نہیں ہے، لہٰذا آپ نے فتنے کو بھانپتے ہوئے اسے فوراً مٹانے میں جلدی کی  اور انصار سے کہا: ’’اے انصار! کیا تم جانتے نہیں ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر کو لوگوں کی امامت کرنے کا حکم دیا تھا؟ پھر تم میں سے کس کو گوارا ہے کہ ابوبکر سے آگے بڑھے؟‘‘