کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 125
کی دلیل ہے بلکہ یہ تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اہم مناقب وفضائل میں سے ہے کہ حوض نبوت سے آپ کی مکمل سیرابی اور چشمہ رسالت سے براہِ راست فیض یابی کی وجہ سے الہام وغیرہ سے مستغنی رہے۔ لہٰذا اس مقام پر غور کرو اور سوچو اور اچھی طرح سوچو اور اس میں اللہ کے حکیم وخبیر ہونے پر شہادت دینے والی عظیم حکمتوں پر پھر غور کرو۔  ۴: میں نے ایسی نابغۂ روزگار شخصیت نہ دیکھی جو آپ جیسی ذہین و فطین ہو: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( رَأَیْتُ کَأَنِّیْ أَنْزِعُ بِدَلْوٍ بَکْرَۃٍ عَلٰی قَلِیْبٍ فَجَائَ أَبُوْبَکْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوْبًا أَوْ ذَنُوْبَیْنِ فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِیْفًا وَاللّٰہُ یَغْفِرُ لَہُ ثُمَّ جَائَ عُمَرُ فَاْستَسْقٰی فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَرَعَبْقَرِیًّا مِنَ النَّاسِ یَفْرِیْ فَرْبَہٗ حَتّٰی رَوِیَ النَّاسُ وَضربوا الْعَطَنَ۔))  ’’میں نے خواب دیکھا کہ ایک کنویں پر ایک ڈول سے پانی کھینچ رہا ہوں، پھر ابوبکر آئے انہوں نے ایک یا دو ڈول ناتوانی کے ساتھ کھینچے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر عمر بن خطاب آئے انہوں نے پانی کھینچنا شروع کیا تو وہ ڈول جرسہ (بڑے ڈول) میں بدل گیا۔ میں نے آپ جیسا شہ زور پہلوان نہیں دیکھا جو آپ جیسا غیر معمولی اوصاف کا حامل ہو، یہاں تک کہ لوگ سیراب ہوگئے اور اپنے اونٹوں کو بھی پلایا۔‘‘ اس حدیث میں فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (( فَجَائَ عُمَرُ فَاسْتَسْقٰی فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا))یعنی ’’عمر بن خطاب آئے انہوں نے پانی کھینچنا شروع کیا تو وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا‘‘ سے آپ کی فضیلت بالکل واضح ہے۔ حدیث میں وارد لفظ ’’اِسْتَحَالَتْ‘‘ کا معنی ہے کہ وہ ڈول چھوٹا تھا لیکن اس وقت بڑا ہوگیا، اور ’’عَبْقَرِیٌ‘‘ کا معنی سردار، یا وہ شخص جو اپنی خصوصیات میں منفرد ہو۔ اور ’’ ضَرَبُوا الْعَطَنَ‘ ‘ کا مطلب ہے کہ انہوں نے اپنے اونٹوں کو پانی پلایا، پھر ان کے آرام کرنے کی جگہ میں لے گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب میں ان تمام (حوادث وواقعات) کی مثال موجود ہے جو خلافت صدیقی وخلافت فاروقی میں واقع ہوئے۔ نیز ان دونوں کی سیرت کی خوبیاں، نقوش اور لوگوں کی نفع رسانی کی طرف واضح اشارہ موجود ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ خلافت صدیقی میں مرتدین سے قتال ہوا اور آپ نے ان کی ہوا اکھاڑ دی، اسلام کی شعائیں منور ہوئیں حالانکہ آپ کی مدت خلافت مختصر رہی۔ یعنی دو سال اور کچھ مہینے۔ لیکن اللہ نے اس مختصر سی مدت میں برکت عطا فرمائی اور اسلام کو بہت فائدہ ہوا۔ اور جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تو آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا، آپ کے دورِ خلافت میں