کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 124
’’یہ حدیث اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے، حقیقت میں شیطان جب آپ کو دیکھتا تو بھاگتا تھا۔‘‘ قاضی عیاض رحمہ اللہ کا قول ہے: ’’یہ بھی احتمال ہے کہ یہ حدیث بطور ضرب المثل ہو اور عمر رضی اللہ عنہ نے شیطان کے راستہ کو چھوڑ کر درستگی کا راستہ اپنا لیا ہے، یعنی جو چیزیں شیطان کو پسند ہیں آپ نے ان کی مخالفت کی ہو۔‘‘ حافظ ابن حجر کا کہنا ہے کہ دونوں اقوال میں پہلا قول راجح ہے۔  ۳: آپ اس امت کے الہام یافتہ ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( لَقَدْ کَانَ فِیْمَا قَبْلَکُمْ مِنَ الْأُمَمِ مُحَدَّثُوْنَ ، فَاِنْ یَکُنْ فِیْ أُمَّتِیْ أَحَدٌ فَإِنَّہٗ عُمَرُ۔)) ’’تم سے پہلے کی امتوں میں الہام یافتہ افراد ہوا کرتے تھے، اگر میری امت میں کوئی ایسا ہے تو وہ عمر ہیں۔‘‘ اس حدیث میں عمر رضی اللہ عنہ کی عظمت ومنقبت کا واضح بیان ہے۔ البتہ حدیث میں وارد لفظ ’’ مُحَدَّثٌ‘‘ سے کیا مراد ہے، اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض کا کہنا ہے: الہام یافتہ شخص مراد ہے۔ بعض کا کہنا ہے: وہ شخص مراد ہے جس کی زبان سے بلا قصد و ارادہ درست رائے کا اظہار ہو۔ اور بعض کا کہنا ہے: ہم کلام ہونا مراد ہے یعنی آپ سے فرشتے ہم کلام ہوئے لیکن نبوت نہیں عطا کی گئی۔ اور بعض کا کہنا ہے: اس سے بصیرت ودُور اندیشی مراد ہے۔  حافظ ابن حجر کا قول ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خاص طور سے اس صفت سے متصف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی آپ کی کئی باتیں اصابت رائے پر مبنی رہیں۔  اور اس مقام پر یہ واضح رہے کہ دیگر صحابہ کو چھوڑ کر آپ کا اس عظیم شرف ومنزلت سے مشرف ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ آپ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں۔  علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تم یہ گمان نہ کرو کہ عمر رضی اللہ عنہ کی یہ خصوصیت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر فضیلت