کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 123
نے فرمایا: (( اِیْہًا یَاابْنَ الْخَطَّابِ! وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا لَقِیَکَ الشَّیْطَانُ سَالِکًا فَجًّا قَطُّ إِلَّا سَلَکَ فَجًّا غَیْرَ فَجِّکَ۔))  ’’کیا خوب اے ابن خطاب! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کبھی کسی راستہ پر چلتے ہوئے شیطان کی تم سے ملاقات ہوجائے تو وہ راستہ بدل کر دوسرے راستہ پر چل پڑتا ہے۔‘‘ اس حدیث میں سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کثرت مصاحبت کی وجہ سے ہمیشہ آپ کی رائے درست ہوتی تھی اور شیطان آپ کو بہکانے کا کوئی راستہ نہ پاتا تھا۔  حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس حدیث میں عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ شیطان کا کوئی داؤ آپ پر کارگر نہ ہوتا تھا، اس کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ آپ غلطیوں سے معصوم تھے، کیونکہ حدیث میں صرف اس بات کا ذکر ہے کہ شیطان آپ کے راستہ سے راہِ فرار اختیار کرلیتا تھا کہ مبادا آپ سے ملاقات نہ ہوجائے اور اس کا راہِ فرار اختیار کرلینا اس بات سے مانع نہیں ہے کہ وہ اپنی قدرت بھر آپ کو وسوسہ میں نہ ڈالتا رہا ہو۔ لیکن اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حدیث کا مفہوم موافق اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ آپ کو وسوسہ میں بھی نہیں ڈال سکتا تھا کیونکہ جب وہ آپ کے راستہ سے راہِ فرار اختیار کرتا تھا تو یہ بات زیادہ قرین قیاس ہے کہ وہ آپ کے قریب بھی نہ آسکے کہ آپ کو وسوسہ میں ڈال دے، لہٰذا ممکن ہے کہ آپ شیطان کی چالوں سے محفوظ کر دیے گئے ہوں؟ لیکن یاد رہنا چاہیے کہ اس ممکنہ صورت حال سے بھی آپ کے لیے عصمت ثابت نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں عصمت واجب ہے، جب کہ دوسرے کے لیے صرف ممکن ہے اور امام طبرانی نے معجم الاوسط میں حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث ان الفاظ میں نقل کی ہے: (( إِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَلْقٰی عُمَرَ مُنْذُ أَسْلَمَ إِلَّا فَرَّ لِوَجْہِہ۔)) ’’عمر رضی اللہ عنہ جب سے مسلمان ہوئے (اس وقت سے وہ یعنی شیطان) جب بھی آپ سے ملا تو چہرہ پھیر کر بھاگا۔‘‘ پس یہ حدیث دینی امور میں آپ کی سختی اور خالص حق وکامل سچائی کے لیے آپ کی مسلسل محنت پر دلالت کرتی ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کا قول ہے: