کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 122
فرمانروائی کو تسلیم کرنے کے لیے عوام کا وہ اتفاق سامنے نہ آیا جو عمر رضی اللہ عنہ کے لیے ہوا تھا۔ پھر یہیں سے فتنوں کا آغاز ہوا، یہاں تک کہ معاملہ آپ کی شہادت تک جا پہنچا۔ پھر علی رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے لیکن اختلافات سنگین سے سنگین تر اور فتنے وسیع سے وسیع تر ہوتے گئے۔ اور جہاں تک آپ کی دینداری کا تعلق ہے سو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَیْتُ النَّاسَ یُعْرَضُوْنَ عَلَیَّ وَعَلَیْہِمْ قُمُصٌ مِنْہَا مَا یَبْلُغُ الثَّدِیَّ وَمِنْہَا مَا یَبْلُغُ دُوْنَ ذٰلِکَ وَمَرَّ عُمَرو ابْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَیْہِ قَمِیْصٌ یَجُرُّہُ۔)) ’’میں سویا ہوا تھا، میں نے (خواب) دیکھا کہ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے اور ان کے جسموں پر قمیضیں تھیں، اس میں بعض کی قمیض سینے تک اور بعض کی اس سے کم ہے ، اور عمر بن خطاب گزرے تو ان کے جسم پر (لمبی) قمیض تھی جسے وہ گھسیٹ رہے تھے۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا: آپ اس کی کیا تعبیر کرتے ہیں اے اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اَلدِّیْنَ۔)) (یعنی قمیض سے مراد دین ہے)  ۲: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ہیبت اور شیطان کا آپ سے خوف کھانا: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس داخل ہونے کی ایسے وقت میں اجازت مانگی جب کہ قریش کی چند عورتیں آپ سے بات کر رہی تھیں اور آپ کی آواز سے اونچی آواز کے ساتھ آپ سے کثرت (نان و نفقہ) کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو وہ اٹھ کھڑی ہوئیں اور جلدی جلدی پردہ کرنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، آپ اندر داخل ہوئے اور دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے ہیں۔ آپ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ کے دانتوں کو ہنسائے (ماجرا کیا ہے؟)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( عَجِبْتُ مِنْ ہٰؤُلَائِ اللَّاتِیْ کُنَّ عِنْدِیْ فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَکَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ۔)) ’’مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا وہ سب میرے پاس تھیں اور جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو جلدی سے پردہ میں ہوگئیں۔‘‘ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! آپ تو اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ آپ سے ڈریں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اپنی جانوں کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتی ؟ عورتوں نے جواب دیا: ہاں، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں زیادہ سخت اور غصے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم