کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 120
دوڑائی، اللہ کی قسم! اس میں مجھے تین چمڑوں کے علاوہ کچھ نظر نہ آیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کریں کہ آپ کی امت پر کشادگی کر دے جس طرح فارس و روم والوں پر دولت کی بہتات کی گئی ہے، حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر ہوبیٹھے اور فرمایا: (( أَفِیْ شَکٍ أَنْتَ یَابْنَ الْخَطَّابِ؟ اُولٰئِکَ قَوْمخ عجلت لَہُمْ طَیِّبَاتِہِمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا۔)) ’’اے ابن خطاب! کیا تم شک میں ہو؟ وہ ایسی قوم ہے کہ اس کے لیے اس کی کشادگی ومرغوبات کو دنیوی زندگی میں جلدی دیا گیا ہے۔‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بخشش کے لیے دعا کردیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (بیویوں) پر سخت غصہ کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ ان کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا۔  مدنی معاشرہ میں فاروقی زندگی سے متعلق یہاں مذکورہ احوال وکوائف کو جمع کرنے کی اللہ نے توفیق دی، حالانکہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض تربیت سے بلند مقام حاصل کیا جس سے آپ کی فضیلت، دین، اور علم میں نکھار آگیا اور اس موضوع کو ہم آئندہ تفصیل سے بیان کر رہے ہیں۔ آپ کے فضائل ومناقب بے شک امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فضل ومنقبت میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد ہیں۔ آپ انبیاء ومرسلین اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد تمام انسانوں میں بلا قید و شرط سب سے افضل ہیں۔ آپ کی افضلیت سے متعلق مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہونا چاہیے اور یہی فرقۂ ناجیہ یعنی اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے۔  آپ کے فضائل ومناقب کے بارے میں بہت سی احادیث اور اخبار وارد ہیں، انہی میں سے بعض یہ ہیں: ۱: آپ کا علم اور دین وایمان: آپ کے ایمانی مقام ومرتبہ کے بارے میں عبداللہ بن ہشام سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ عمر بن خطاب کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ میرے نزدیک ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میری جان کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: