کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 110
۳۔ صحابہ کو ایک ہی منبع شریعت کے تابع کرنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوشش: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تورات کا ایک ورق دیکھا تو فرمایا: (( أَمُتَہَوَّکُوْنَ یَا بْنَ الْخَطَّابِ! لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِہَا بَیْضَائَ نَقِیَّۃً ، لَوْ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا مَا وَسِعَہٗ إِلَّا اتِّبَاعِیْ)) ’’اے ابن خطاب! کیا تم (اسلام کے بارے میں) تردد میں ہو، میں اسے صاف شفاف شریعت کی شکل میں تمہارے پاس لایا ہوں۔ اگر موسیٰ( علیہ السلام ) زندہ ہوتے تو ان کے لیے بھی میری ہی اتباع ضروری ہوتی۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے: (( إِنْ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوْہُ وَتَرَکْتُمُوْنِیْ لَضَلَلْتُمْ۔))  ’’اگر موسیٰ زندہ ہوتے اور تم ان کی اتباع کرتے اور مجھے چھوڑ دیتے تو تم گمراہ ہوجاتے۔‘‘ ۴۔ کائنات کی تخلیق کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی: طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور کائنات کی تخلیق کے بارے میں ہمیں خبر دیتے ہوئے بتایا کہ ’’یہاں تک کہ جنتی اپنے ٹھکانے پر اور جہنمی اپنے ٹھکانے پر چلے جائیں گے۔‘‘ کسی نے اسے یاد کرلیا اور کسی نے اسے بھلا دیا۔  یہ حدیث اس ضمن میں آتی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث سے کائنات کے فنا ہونے اور اللہ سے جا ملنے کا مفہوم سمجھا۔ ۵۔ آبا واجداد کی قسم کھانے سے ممانعت اور توکل علی اللہ پر ابھارنا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (( إِنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ أَنْ تَحْلِقُوْا بَآبَائِ کُمْ۔)) ’’اللہ تعالیٰ تم کو منع کرتا ہے کہ تم اپنے آبا واجداد کی قسم کھاؤ۔‘‘ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع کرتے سنا اس کے بعد سے ایسی قسم نہیں کھائی، حتیٰ کہ قصداً یا بھول کر بھی اس پر زبان نہ کھولی۔